جموں/۱۸ستمبر
سینئر ایڈووکیٹ نرمل کے کوٹوال نے جمعرات کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے کی پی ایس اے کے تحت حراست کے معاملے میں وکالت سے معذرت کر لی۔ انہوں نے اس کی وجہ وہ ویڈیوز بتائیں جن میں مذکورہ سیاستدان مبینہ طور پر یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور وہ دہشت گرد برہان وانی اور مسعود اظہر کی تعریف کر رہے ہیں۔
کوٹوال، جو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں ونگ کے صدر بھی ہیں‘نے یہاں ایک بیان میں کہا’’بھارت کی اتحاد اور خودمختاری ناقابلِ سود و زیاں ہیں اور انہیں کمزور کرنے والی کسی بھی حرکت یا بیان کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
معراج ملک (۳۷) کو۸ستمبر کو ڈوڈہ میں ضلع کے عوامی نظم کو درہم برہم کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور کٹھوعہ ڈسٹرکٹ جیل میں بھیج دیا گیا تھا۔
۱۴ستمبر کو اے اے پی نے ملک کی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے کوٹوال کی سربراہی میں ۱۰ رکنی قانونی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔
سینئر ایڈووکیٹ نے کہا’’مجھے علم میں آیا ہے کہ کچھ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں مبینہ طور پر ملک نے کہا ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ ان ویڈیوز میں انہوں نے حزب المجاہدین کے عسکریت پسند برہان وانی اور پاکستان میں قائم جیش محمد کے بانی دہشت گرد مسعود اظہر کی بھی تعریف کی ہے‘‘۔
کوٹوال کاکہنا تھا’’شروع ہی میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ویڈیوز اور بیانات کبھی مجھے اے اے پی کی لیگل ٹیم نے نہیں بتائے جب انہوں نے مجھے اس معاملے پر بریف کیا تھا جس میں ملک کے خلاف پی ایس اے لگایا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سب کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلوم ہوا۔
سینئر ایڈووکیٹ نے کہا نے کہا کہ یہ بیانات، اگر درست ہیں، تو قومی سلامتی، خودمختاری اور بھارت کی سالمیت کیلئے نہایت’’غیر حساس، غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ‘‘ ہیں۔
کوٹوال نے کہا’’بطور عدالت کا افسر اور اس عظیم قوم کے شہری کی حیثیت سے میں قوم کے مفاد کو سب سے اوپر رکھتا ہوں۔ اسی تناظر میں، اور اپنے ضمیر، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور قومی سالمیت کے عہد کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں اس معاملے میں ملک کی وکالت سے معذرت کرتا ہوں جو پی ایس اے کی کارروائیوں سے متعلق ہے۔‘‘









