نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) دہلی پولیس کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 64,300 غیر قانونی سگریٹوں کی ایک بڑی کھیپ ضبط کی ہے اور دو اسمگلروں کو گرفتار کیا ہے ۔ ضبط کیے گئے سگریٹوں پر حکومت ہند کی صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی طرف سے طے کردہ تصویری انتباہی لیبل موجود نہیں تھے ۔ برآمد شدہ مال کی تخمینہ قیمت 12.5 لاکھ روپے بتائی گئی ہے ۔
کرائم برانچ میں ڈپٹی کمشنر سنجیو کمار یادو نے بدھ کے روز بتایا کہ 15 ستمبر کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فراش خانہ علاقے میں بغیر انتباہی لیبل والے سگریٹوں کی سپلائی کی جا رہی ہے ۔ اس اطلاع کی بنیاد پر انسپکٹر ریتیش کمار کی قیادت میں ایس آئی روی رانا، منوج کمار، ہیڈ کانسٹیبل تیج پرتاپ سنگھ اور کانسٹیبل نشانت کی ٹیم تشکیل دی گئی۔
ٹیم نے فراش خانہ میں نگرانی کے دوران دو اسکوٹی سواروں کو روکا اور ان کے قبضے سے 1,000 پیکٹ ”ایسے لائٹس”برانڈ کے سگریٹ برآمد کیے ۔پوچھ گچھ کے دوران ملزمین کی شناخت اویس صدیقی 22 رہائشی اتر پردیش اور عبدالکلام 19 رہائشی دلی کے طور پر ہوئی ان کی نشاندہی پر قریب ہی واقع ایک گودام سے مزید 2,215 پیکٹ برآمد کیے گئے ۔
یو این آئی-وزیراعظم مودی جمہوری ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مقبولیت کے گراف میں سرفہرست ہیں
نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) اپنی کرشمائی شخصیت، ایماندارانہ شبیہ اور محنت سے مسٹر مودی، جو گزشتہ 11 برسوں سے اس وسیع اور متنوع ملک کے وزیر اعظم ہیں، اب بھی دنیا کے جمہوری ممالک کے لیڈروں کی گھریلو مقبولیت کے گراف میں بڑے فرق سے سرفہرست ہیں۔
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پی ایم مودی ایسے دوسرے سیاستدان ہیں جنہوں نے مسلسل انتخابی کامیابی کے ساتھ تیسری بار وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ہے اور آج بھی عوام کے درمیان سب سے زیادہ مقبول رہنماکے طور پر برقرار ہیں۔ عالمی سروے فرم اسٹیٹسٹا کی اگست 2025 تک کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی کی گھریلو مقبولیت 72 فیصد کے ساتھ سر فہرست تھی۔ عدم مقبولیت کی شرح21 فیصد تھی جبکہ سات فیصد اپنی پسند کے بارے میں متذبذب تھے ۔ اس سروے میں جنوبی کوریا کے لی جائی-میونگ 58 فیصد مقبولیت اور 30 فیصد عدم مقبولیت کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔
اسی طرح امریکہ کی ایجنسی پیو ریسرچ سینٹر کی مارچ تا مئی کی رپورٹ میں پی ایم مودی کی مقبولیت کا گراف 79 فیصد پر تھا۔ گھریلو میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے کی یکم اگست کی رپورٹ میں پی ایم مودی 58 فیصد کی شرحِ مقبولیت کے ساتھ دیگر رہنماؤں سے کافی آگے تھے ۔
پی ایم مودی کی قیادت میں ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھا ہے اور پارٹی میں ان کی ایسے واحد رہنما کے طور پر شبیہ بنی ہے جن کے بارے میں ملک کے کئی حصوں میں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہاں کوئی بھی انتخاب لڑے ووٹ مودی کے نام پر ہی ملتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ایم مودی کی شخصیت اور ان کی مقبولیت کے باعث پچھلے 11 برسوں میں ان کی قیادت میں بی جے پی کے ووٹ کا دائرہ بڑھا ہے اور تمام طبقات نے اسے ووٹ دیا ہے ۔ تجزیوں کے مطابق بی جے پی کا مسلم ووٹ 1996 میں دو فیصد تھا جو 2014 اور 2019 میں بڑھ کر آٹھ فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔ دیگر پسماندہ طبقے یعنی او بی سی کا بی جے پی کو ووٹ 1996 کے 19 فیصد کی بہ نسبت بڑھ کر اب 44 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ دلتوں کا 14 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد اور آدی واسیوں کا 21 فیصد سے بڑھ کر 44 فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔
سیاسی بساط پر ان نئے اعدادوشمار کے ساتھ بی جے پی کے کردار میں بھی تبدیلی آئی ہے اور بی جے پی نظریاتی طور پر نرم پڑی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کی سیاسی کامیابی کی بنیاد ہندوتوا ہی ہے اور یہ پی ایم مودی کی سیاسی حکمتِ عملی کے لیے اہم بنا ہوا ہے ۔










