نئی دہلی، 17 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز یہ سوال کرتے ہوئے گینگسٹر راجندر سدھاشیو نکالجے عرف چھوٹا راجن کی ضمانت یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دی کہ ‘چار بار مجرم قرار دیے گئے اور 27 سال فراررہے والے شخص کی سزا کیوں مؤخر کی جائے ؟’
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے غیر قانونی وصولی کے معاملے میں ہوٹل کاروباری جیا شیٹی کے 2001 کے قتل کے معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت منسوخ کر دی۔
بنچ نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کی دلائل سننے کے بعد یہ حکم دیا۔
بنچ کے سامنے انہوں نے دلیل دی کہ عمر قید پانے والے راجن کو چار دیگر مقدمات میں بھی مجرم قرار دیا گیا ہے اور وہ 27 سال تک فرار رہا تھا۔
چھوٹا راجن کے وکیل سدھیپ پاسبولا نے دلیل دی کہ راجن کے خلاف درج 71 مقدمات میں سے 47 میں سی بی آئی کو کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا اور انہیں بند کر دیا گیا۔ جب موجودہ سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو پاسبولا نے قبول کیا کہ قتل کے معاملے میں راجن کی یہ دوسری سزا ہے ۔
لہٰذا سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔
استغاثہ نے کہا کہ جنوبی ممبئی میں واقع گولڈن کراؤن ہوٹل کی مالکن جیا شیٹی کو راجن کے گروہ سے رقم وصولی کی دھمکیاں مل رہی تھیں، اگرچہ انہیں پولیس کی حفاظت دی گئی تھی، لیکن ان کے قتل سے دو ماہ قبل یہ حفاظت واپس لے لی گئی تھی۔
شیٹی کو 4 مئی 2001 کو ان کے دفتر کے باہر گروہ کے دو مبینہ اراکین نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے 50,000 روپے دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ممبئی کی ایک خاص مکوکا عدالت نے مئی 2024 میں راجن کو متعدد الزامات میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
انہیں فوری تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل) اور 120-بی (مجرمانہ سازش) کے علاوہ مکوکا کی دفعات 3(1)(i)، 3(2) اور 3(4) کے تحت مجرم قرار دیا گیا اور 16 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ انہیں اسلحہ سے متعلق قانون کی دفعات 3، 25 اور 27 کے تحت الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے تمام چار عمر قید کی سزاؤں کو ایک ساتھ چلانے کا حکم دیا گیا۔










