دوحہ، 15 ستمبر (یو این آئی) آج ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں پیش کی جانے والی قرار داد کا مسودہ سامنے آگیا۔
مجوزہ قرار داد میں کہاگیا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے نے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
مسودہ کے مطابق قطر پراسرائیل کا وحشیانہ حملہ اورغزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، جبری قحط اور غیر قانونی آبادکاری نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کے موجودہ معاہدوں کو بھی خطرے سے دوچار کر رہی ہے ۔
یاد رہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر سے اظہار یکجہتی کیلئے عرب اور اسلامی ممالک کا دوحہ میں دو روزہ اجلاس جاری ہے ، آج ہونے والے سربراہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے ۔
اس سے قبل وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے عرب اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہم ایک بارپھر ایک برادر، خود مختار ریاست پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال پرغورکے لیے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ ماہ ہم جدہ میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی جارحیت پرتبادلہ خیال کے لیے ملے تھے ۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیلی عزائم پر نظر رکھنے اور اس حوالے سے مربوط اقدامات کے لیے عرب اسلامی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز دے دی۔










