تو صاحب خبر یہ ہے… توڑنے ہمارا مطلب ہے کہ بریکنگ نیوزیہ ہے کہ… کہ… اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت… بھار ی اکثریت نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا ہے… صرف مٹھی بھر ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا ہے… تو کیا اس سے فلسطین کا مسئلہ حل ہو جائیگا… اس سے فلسطینی ریاست کے قیام میں مدد ملے گی… یا کیا یہ خواب… ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا خواب پورا ہو جائیگا… ؟ نہیں صاحب ایسا کچھ نہیں ہے… مانتے ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بیشتر ممالک ایسا چاہتے ہیں… چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں پر مظالم ختم ہوں… ان کی اپنی ایک آزاد ریاست ہو ‘ ان کے ساتھ انصاف ہو‘ ان کا قتل عام بند ہو ‘ ان کی نسل کشی کا سلسلہ فوراً ختم ہو … دنیا ایسا چاہتی ہے… لیکن صاحب پھر بھی ایسا کچھ ہونے والا ہے نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ اور اس لئے نہیں ہے کیونکہ امریکہ ایسا نہیں چاہتا ہے … امریکہ گنتی کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جو ایسا نہیں چاہتا ہے اور… اور اس نے مخالفت میں ووٹ دیا ۔ اس کی مخالفت کا مطلب ہے کہ ایسا… فی الحال ایسا کچھ نہیں ہو گا … وہ کیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت … غالب اکثریت مخالفت میں ووٹ دیتی اور امریکہ وہ واحد ملک ہو تا جو اس کے حق میں ووٹ دیتا تو… تو صاحب ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں ایک آزاد اور کود مختار فلسطینی ریاست وجود میں آتی ہے… بھلے ہی ساری دنیا اس کے خلاف ہو تی… لیکن صاحب جب امریکہ اس کی مخالفت میں ووٹ دیتا ہے تو… تو اس کا یہ مطلب ہے کہ دنیا … پوری دنیا کا اس کے حق میں ووٹ دینے کا کوئی معنی ‘ کوئی مطلب نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے … اور اس لئے نہیں ہے کہ اسرائیل کی طاقت ‘ اس کی قوت ‘اس کی جارحیت ‘ اس کی سازشیں…ان سب کے پیچھے اگر کوئی ملک ایک قوت اور طاقت بن کے کھڑا ہے تو… تو وہ امریکہ ہے… اسرائیل جو کچھ بھی کررہا ہے… غزہ میں کررہا ہے … امریکہ کی حمایت کی وجہ سے کررہا ہے… یا اس کی حمایت کی وجہ سے ہی کررہا ہے … اور کرتا رہے گا… تب تک کرتا رہے گا ‘ جب تک امریکہ اس کے آگے پیچھے‘ دائیں بائیں‘اوپر نیچے کھڑا ہے…اس کیلئے صرف یہی بات ‘ یہی ایک ملک… امریکہ معنی رکھتا ہے… کچھ اور نہیں ‘ کوئی اور نہیں… دنیا اور دنیا والے بھی نہیں ۔ ہے نا؟




