یقین کریں ہمیں یقین تھا کہ اب ایسی حماقت کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرے گا… ہم اب یہ مان کر چلے تھے کہ لوگوں کو گندا‘ بوسیدہ ‘بد بو دار ‘ گلا اور سڑا گوشت کھلانے کی کوئی ہمت ‘کوئی جسارت نہیں کرے گا اور… اور اس لئے نہیں کرے گا کہ پورا کشمیر … کشمیر کی سیاسی ‘ سماجی اور مذہبی جماعتیں ‘ یہاں کی سول سوسائٹی نے اس کیخلاف ایک ہو کر جو آواز اٹھائی تھی… اسے دیکھ ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ بس اب ایسا نہیں ہو گا… دو بارہ ایسا نہیں ہو گا… لیکن… لیکن ہمارے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے … سارے کے سارے اندازے ۔ آج ہی پولیس سے اپنے شہر خستہ کے کئی علاقوں میں شکایات ملنے کے بعد گلا سڑا اور بد بو دار گوست پکڑا … اس سے بنے پکوان کو ضائع کیا … اس کو آپ کیا کہیں گے… کہ ہم کچھ کہنے سے قاصر ہیں… کچھ بھی کہنے سے۔ہم خود کو یہ سمجھا نہیں پا رہے ہیں کہ آیا مسئلہ گلے سڑے گوشت کا ہے… یاپھر گلے سڑے ضمیر کا… کیا اصل مسئلہ گلے سڑے گوشت کا ہے …یا پھر گلے سڑے ضمیر کا؟ہمیں لگتا ہے کہ اصل مسئلہ ہمارے گلے سڑے ضمیر کا ہے جو ہم سے کچھ بھی کرا رہا ہے اور… اور ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں… کچھ بھی کرنے کو … یہ سوچنے بغیر کہ ہماری کسی حرکت سے کسی کو نقصان تو نہیں پہنچ جائیگا اور… اور اللہ میاں کی قسم نقصان پہنچ رہا ہے… پوری قوم کو نقصان پہنچ رہا ہے … پولیس کارروائی کررہی ہے… اور وہ شو ق سے کارروائی کرے… لیکن صاحب یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے… جس قوم کے لوگ منشیات کے ذریعے اپنی ہی قوم ‘ اپنے ہی لوگوں کو تباہی اور بربادی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے پر بضد ہوں… وہاں گلا سڑا وگشت فروخت کرنا کون سی بڑی بات ہے… کون سا بڑا جرم ہے… اللہ میاں کہ قسم منشات کی سمگلنگ کے سامنے یہ کوئی جرم ہی ہمیں نہیںلگ رہا ہے… بالکل بھی نہیں لگ رہا ہے…یہ مسئلہ حل ہو گا…یقینا حل ہو گا… اُس دن حل ہو گا جس دن ہمارا ضمیر تازہ گوشت کی طرح ایک دم تازہ ہو گا… مردہ نہیں ہو گا… جس دن ہمار اضمیر جا گ جائیگا … بہ حیثیت قوم جاگ جائیگا … اس دن کوئی گلاسڑا گوشت کھلانے والا مل جائیگا اور نہ کھانے والا…تب تک یہاں گلا سڑا گوشت کھلا نے والے بھی ہیں اور کھانے والے بھی۔ ہے نا؟




