’ ہمیں امید ہے کہ اس سے کشمیر سے گڈز ٹرین جلد شروع ہوگی ‘اس کیلئے کاشتکاروں کی رجسٹریشن شروع کردی ہے‘
سرینگر/۱۱ستمبر
وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے جمعرات کو اعلان کیا کہ حکومتِ ہند ایک روزانہ ٹائم ٹیبلڈ پارسل متعارف کرانے جا رہی ہے جو کشمیر اور دہلی کو جوڑے گا۔
اشونی ویشنو نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ پارسل سروسز وادی کے بڈگام علاقے سے دہلی کے آدرش نگر تک شروع ہو گی۔
وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ یہ خدمات ۱۳ستمبر سے مؤثر ہوں گی۔ ویشنو کے مطابق، انہوں نے زور دیا کہ یہ سروسز کشمیر کے سیب کاشتکاروں کو بااختیار بنائیں گی۔انہوںنے مزید کہا کہ بڈگام سے دہلی تک سیب لے جانے والی دو پارسل وینوں کی لوڈنگ کی سروس آج سے شروع ہو رہی ہے۔
ریلوے وزیر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا’’کشمیر کے سیب کاشتکاروں کو بااختیار بنانا… جموں،سرینگر لائن آپریشنل ہونے سے وادی کو بہتر رابطہ ملا ہے۔ ریلوے ۱۳ ستمبر سے بڈگام سے دہلی کے لیے روزانہ پارسل ٹرین شروع کر رہا ہے‘‘۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر بارش اور پسیاں گرنے کے باعث ہزاروں سیب سے لدے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جس سے وادی کی باغبانی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
جموں ڈویڑن کے سینئر کمرشل ڈویڑنل منیجر اوچت سنگھل کے مطابق، اس پارسل کی پہلی سروس ۱۳ ستمبر کو دوپہر ۱۲ بج کر ۱۰ منٹ پر آدرش نگر دہلی سے بڈگام روانہ ہوگی۔ یہ ۱۵ ستمبر کو صبح ۶ بج کر۱۵ منٹ پر بڈگام سے دہلی روانہ ہوگی۔
ٹرین چلانے کا بنیادی مقصد کشمیری تاجروں کو فائدہ پہنچانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کا مال ملک کے کونے کونے تک پہنچے، جس میں بنیادی طور پر سیب، زعفران، اخروٹ، کشمیری شالیں، قالین اور کشمیری دستکاریاں شامل ہیں۔ یہ ٹرین تقریباً ۲۳ گھنٹوں میں دہلی پہنچے گی، جو بڈگام سے سڑک کے ذریعے سفر سے کم وقت ہے۔
ان خدمات کو دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈویڑنل ریلوے منیجر وویک کمار نے کہا کہ یہ فیصلہ خراب موسم کے باعث لیا گیا ہے۔
موسلا دھار بارشوں نے سڑک ٹریفک کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے سیب اور دیگر پھلوں کو ملک کی دیگر ریاستوں اور دیہاتوں تک پہنچانے میں بے شمار مسائل پیدا ہوئے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ریلوے نے پارسل ٹرین شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے شمالی ریلوے نے کہا کہ اس پارسل ٹرین میں ایک ایس ایل آر ہوگا جس کے ساتھ آٹھ پارسل ہوں گے۔ کاروباری طبقے کو سہولت دینے کے لیے باری براہمنہ اسٹیشن پر سامان لادنے اور اتارنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
جموں ڈویڑن کے ڈویڑنل ریلوے منیجر کے مطابق ’’جوائنٹ پارسل پروڈکٹ ، ریپڈ کارگو سروس‘‘کا مقصد ریلوے کے ذریعے مال برداری کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایک ورچوئل ایگریگیشن پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرے گا، جو ریلوے میں نجی شعبے کی شراکت کو بڑھانے میں مدد کرے گا۔ یہ کارگو ٹرین جموں ڈویڑن میں پہلی بار چلائی جا رہی ہے۔
اس دوران کشمیر ویلی فروٹ گروورز اور ڈیلرز یونین کے چیئرمین، بشیر احمد نے کہا کہ جہاں پارسل وین کاشتکاروں کی مدد کریں گی وہیں ان سے کشمیر سے پھل لانے کے لیے گڈز ٹرینوں کی توقع بھی ہے ۔
بشیر نے کہا’’ہمیں امید ہے کہ کشمیر سے گڈز ٹرین جلد شروع ہوگی اور ہم نے اس کیلئے کاشتکاروں کی رجسٹریشن شروع کردی ہے ‘‘۔
سری نگر جموں قومی شاہراہ کی حالیہ بندوش سے کشمیر کی سیب کی صنعت کو انتہائی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کو وادی سے باہر کی منڈیوں تک پہنچانے سے قاصر ہیں، جس کے نتیجے میں نقصانات بڑھ رہے ہیں۔
کشمیر میں ماہ ستمبر میں سیب اتارنے کا سیزن عروج پر ہوتا ہے اور قومی شاہراہ پر دوہفتوں تک ٹریفک کی نقل و حمل مسلسل بند رہنے سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بے تحاشا نقصان ہوا ہے ۔
عام موسمی حالات میں، سیبوں سے لدے تقریباً ایک ہزار ٹرک روزانہ وادی سے ملک بھر کی منڈیوں کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ ان دنوں صرف مٹھی بھر چھوٹی گاڑیاں مغل روڈ پر چلنے کا انتظام کیا گیا ہے جو ایک متبادل راستہ ہے تاہم کاشتکاروں کا اصرار ہے کہ یہ کافی نہیں ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ باغبانی کشمیر کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس پر لاکھ خاندان کی بالواسطہ اور بالواسطہ روزی روٹی وابستہ ہیں۔
باغبانی کا جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کا تقریباً ۷فیصد حصہ ہے ، جس کے ساتھ مرکزی زیر انتظام علاقہ ملک کا سب سے بڑا سیب پیدا کرنے والا ملک ہے ۔ پھل کی سالانہ پیداوار تقریباً ۱۹لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ جاتی ہے ۔










