جموں/۱۱ستمبر
جموں کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے ٹھوکر محلہ علاقے میں جمعرات کو کم شدت کا دھماکہ ہوا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور’ایف ایس ایل‘کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھا کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔
ڈوڈہ،کشتواڑ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے بتایا کہ معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور اس کے پس پردہ عوامل کا پتہ لگایا جا سکے ۔
حکام کے مطابق علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
دریں اثنا وزیر اعلی عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت اور پارٹی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایم ایل اے ڈوڈہ معراج ملک کی حراست کے بعد قانونی جنگ میں ان کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
سرینگر میںنامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ ایم ایل اے کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو مدد فراہم کی جائے گی ، اور پی ایس اے فریم ورک سے واقف وکیل کا تقرر موثر دفاع کے لیے اہم ہے۔
عمر نے کہا کہ انہوں نے ملک کے والد سے ملاقات کی اور انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔’’میں نے اس کے والد سے ملاقات کی اور ان سے بات کی۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ ہم اپنی طرف سے کوئی بھی مدد دینے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پارٹی ایم ایل اے کے ساتھیوں کو بہترین نقطہ نظر پر رہنمائی کرے گی۔ ’’عام آدمی پارٹی اور ان کے ساتھیوں کو میرا مشورہ ہوگا کہ وہ بیرون ملک سے وکیل نہ لائیں۔ انہیں یہاں سے ایک وکیل لینا چاہیے جو پی ایس اے کا قانون جانتا ہو۔ ضرورت پڑنے پر ہم ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ‘‘










