جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندیاں نافذ رہیں، جہاں عوامی نمائندے اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے معر اج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
ان پابندیوں کا دائرہ بڑھا کر بھدرواہ وادی تک کر دیا گیا ہے، جہاں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔
منگل کو ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم آٹھ پولیس اہلکار، جن میں دو افسر بھی شامل ہیں، زخمی ہو گئے تھے۔ مظاہرے اس وقت پھوٹ پڑے جب معر اج ملک کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لے کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امن عامہ میں خلل ڈالا تھا۔
ایک پولیس افسر نے بتایا ’’صورتحال پرامن ہے۔ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں تازہ احتجاج کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
ڈوڈہ انتظامیہ نے منگل کو امن و امان کے خدشات، ممکنہ غیر قانونی اجتماعات اور بدامنی کے امکانات کے پیش نظر دفعہ۱۴۴ نافذ کی تھی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈوڈہ، انیل کمار ٹھاکر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے ضلع میں چار یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے، جب تک کہ مزید احکامات نہ دیے جائیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد اشتعال انگیز تقریر نہیں کرے گا، نعرے بازی یا ایسے اشارے نہیں کرے گا جو امن و بھائی چارے کو متاثر کریں۔ عوامی مقامات پر لاٹھی یا نوک دار ہتھیار لے جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈوڈہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
پابندیوں کے نتیجے میں ڈوڈہ اور بھدرواہ کے علاوہ دیگر قصبوں میں بھی دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا۔ مقامی لوگوں نے انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی شکایت کی، تاہم ضلعی حکام نے انٹرنیٹ پر پابندی سے انکار کرتے ہوئے اسے تکنیکی بحالی کے کام سے جوڑا۔
حساس علاقوں جیسے بھدرواہ، گندو، بھلیسہ، چلی پنگل، کہارہ اور ٹھاٹھری میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، حکام نے بتایا۔
احتجاجی مظاہرے جموں، راجوری، پونچھ اور کشتواڑ میں بھی دیکھے گئے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس نے ملک کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک کسی خطرے کا باعث نہیں ہیں اور پی ایس اے کے تحت ان کی حراست ’غلط‘ ہے۔










