جموں،سرینگر قومی شاہراہ کو بدھ کے روز نو دنوں تک بند رہنے کے بعد ٹریفک کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا۔
اہم ۲۷۰ کلومیٹر طویل شاہراہ، جو وادیٔ کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد آل ویدر سڑک ہے، ۲۶؍ اگست سے بھاری بارشوں، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مقامات پر بند تھی۔ یہ سڑک مختصراً ۳۰؍اگست کو کھولی گئی تھی، لیکن دوبارہ بند کر دی گئی۔ مجموعی طور پر شاہراہ ۱۴ دن تک بند رہی۔
ایک افسر نے بتایا کہ کشتواڑ،سنٹھن،اننت ناگ اور سری نگر،سونہ مرگ،گمری سڑکیں بھی بدھ کے روز کھول دی گئیں۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے ایک افسر نے کہا’’کام بار بار ہونے والی بھاری بارشوں سے متاثر ہوئے۔ ۷ستمبر سے جنگی بنیادوں پر کام دوبارہ شروع کرنے کے بعد ۳۰۰ میٹر کی ایک متبادل سڑک تعمیر کی گئی اور آج شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دیا گیا ہے‘‘۔
افسر نے کہا کہ شاہراہ کھلنے کے بعد گاڑیوں کی آمد و رفت ہموار طریقے سے جاری ہے۔
این ایچ اے آئی افسر نے بتایا کہ ۲ ستمبر کو ایک بڑا لینڈ سلائیڈ اودھم پور ضلع کے تھرد،جکھینی کے قریب پیش آیا، جس نے شاہراہ کو بھاری ملبے کے نیچے دفن کر دیا۔
افسر نے کہا’’حادثے کی رات ہی سے این ایچ اے آئی کے افسران اور سینکڑوں مزدور بارش، کیچڑ اور بار بار کی رکاوٹوں کے باوجود مسلسل کام میں جٹے رہے۔ چیلنجوں کے باوجود ٹیم۷x۲۴ زمین پر موجود رہی اور شاہراہ کو بحال کیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب سے مشکل حصہ تھا کیونکہ ایک بڑے لینڈ سلائیڈ کے بعد شاہراہ کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑا۔
حکام نے کہا کہ حکام وادیٔ کشمیر، ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں ضروری سپلائی لے جانے والی پھنسی ہوئی گاڑیوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس دوران ماتا ویشنو دیوی مزار کی یاترا بدھ کے روز مسلسل ۱۶ویں دن بھی معطل رہی۔
انہوں نے کہا کہ سرینگر،سونہ مرگ،گمری شاہراہ، جو زوجیلا بیلٹ کے رسول موڑ کے قریب لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے بند تھی، دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ سنٹھن روڈ بھی بحال ہو گیا ہے۔
مغل روڈ، جو جموں کے پونچھ ضلع کو کشمیر کے شوپیاں ضلع سے جوڑتی ہے، پر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہا ہے، جبکہ بٹوت،ڈوڈہ،کشتواڑ روڈ لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے بند ہے۔
حکام نے کہا کہ شاہراہوں اور دیگر بین الاضلاعی سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں ۴۰۰۰سے زائد گاڑیاں کٹھوعہ، سانبہ، جموں، اودھم پور، رام بن، وادیٔ کشمیر اور پنجاب کے مختلف مقامات پر پھنس گئی تھیں۔
حال ہی کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے جموں و کشمیر میں تقریباً ۱۲ہزار کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچایا ہے۔
ادھر قومی شاہراہ کے بند ہونے سے اہلیان وادی گونا گوں مشکلات سے دو چار ہوئے ہیں۔
جہاں ایک طرف بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوئی ہے وہیں باغ مالکان خسارے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
لوگوں کا الزام ہے کہ قومی شاہراہ بند ہوتے ہیں وادی میں گراں فروشی آسمان چھونے لگتی ہیں اور خورد و نوش کی چیزیں اس قدر مہنگی ہوجاتی ہیں کہ عام لوگوں کے لئے ان کا خریدنا از بس مشکل ہوجاتا ہے۔










