نئی دہلی ، 10 ستمبر (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے سیلاب سے متاثرہ ہماچل پردیش اور پنجاب کے دورے سے واپسی کے فوراً بعد کل رات دیر گئے سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ایس) کی میٹنگ کی صدارت کی اور تشدد سے متاثرہ نیپال کی صورتحال پر تبادلہ ٔ خیال کیا۔
سی سی ایس کے اجلاس میں نیپال میں بڑھتے ہوئے تشدد کی اطلاعات کے درمیان حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ، جس کی وجہ سے نوجوانوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہو گئے ۔ مسٹر مودی نے ان واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نیپال کے تمام شہریوں سے امن اور اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ، وزیر اعظم نے کہا ، "آج ہماچل پردیش اور پنجاب سے واپسی پر ، سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں نیپال کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ نیپال میں تشدد دل دہلا دینے والا ہے ۔ میں اس بات سے غمزدہ ہوں کہ اتنے سارے نوجوان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں ۔ نیپال کا استحکام ، امن اور خوشحالی ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ میں نیپال میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں سے عاجزی کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن برقرار رکھیں ۔ ”
مسٹر مودی نے اپنے ھمسایہ ملک اوردیرینہ شراکت دار کے تئیں ہندوستان کی تشویش کو اجاگر کرتے ہوئے ہندی اور نیپالی زبان میں بھی اپنے پیغام کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کا استحکام ، امن اور خوشحالی ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔
سی سی ایس قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اعلی سطحی حکومتی ادارہ ہے ۔ اگرچہ حکومت نے باضابطہ طور پر ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں ، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ نیپال کی صورتحال پر اعلی سطح پرگہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔
سوشل میڈیا پر متنازعہ پابندی اور حکومتی بدعنوانی پر بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کی وجہ سے جنرل زیڈ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کی لہر کے بعد پورے نیپال میں کشیدگی میں اضافہ جاری ہے ۔ اس بدامنی کے نتیجے میں ملک بھر میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ۔
بڑے پیمانے پر مظاہروں اور بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی وجہ سے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفی دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ کشیدگی کو کم کرنے کی خاطر حکومت نے سوشل میڈیا پر عاید پابندی ختم کر دی ہے ۔
اس کے باوجود ، کئی علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں ، نوجوان مظاہرین سیاسی رہنماؤں سے منظم اصلاحات اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔









