قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے امیدوار سی پی رادھاکرشنن ملک کے نئے نائب صدرجمہوریہ کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ مسٹر رادھاکرشنن نے نائب صدرجمہوریہ کے عہدے کے انتخاب کے لیے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے ووٹنگ میں انڈیا الائنس کے امیدوار و سابق جج بی سدرشن ریڈی کو۱۵۲ووٹوں سے ہرا دیا۔
انتخابی افسر پی سی مودی نے ووٹوں کی گنتی کے بعد رادھاکرشنن کو نائب صدرجمہوریہ کے لیے منتخب قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کل۷۸۱ووٹوں میں سے۷۶۷ووٹ پڑے ، جن میں سے رادھاکرشنن کو۴۵۲جبکہ ان کے حریف ریڈی کو۳۰۰ووٹ ملے ۔ انہوں نے کہا کہ۱۵ووٹ کالعدم قرار دیے گئے ۔
الیکشن آفیسر پی سی مودی نے بتایا کہ انتخاب میں۲ء۹۸فیصد ووٹنگ ہوئی۔ انتخابی افسر نے بتایا کہ ووٹنگ صبح دس بجے شروع ہوئی اور پانچ بجے ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی چھ بجے شروع ہوئی۔ سب سے پہلے ووٹوں کی قانونی حیثیت کی جانچ کی گئی جس میں۱۵ووٹ کالعدم قرار پائے ، جن میں ایک ووٹ بھی شامل ہے جو ایک رکن پارلیمنٹ نے ڈاک کے ذریعے بھیجا تھا۔
نائب صدرجمہوریہ کے انتخاب میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس انتخاب میں ووٹرز کی کل تعداد۷۸۱تھی، جن میں لوک سبھا کے۴۴۲؍؍اور راجیہ سبھا کے۲۳۹؍اراکین شامل تھے ۔ جیت کیلئے۳۷۷ ووٹوں کی ضرورت تھی۔ رادھاکرشنن کو۴۵۲ووٹ ملے ، جو دونوں ایوانوں میں این ڈی اے کے اراکین کی کل تعداد سے زیادہ ہیں۔
بیجو جنتا دل، بھارت راشٹر سمیتی اور شیرومنی اکالی دل نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے ۔
دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے سی پی رادھا کرشنن کو نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔









