توبہ میری توبہ… اس شخص کے کتنے چہرے ہیں اور ان لا تعداد اور انگنت چہروں میں کون سا اصلی اور سچا ہے ‘اس کا پتہ لگانا کم از کم ہمارے بس کی بات نہیں ہے … بالکل بھی نہیں ہے ۔ ابھی کل ہی ا نہوں نے کہا تھا …یہ کہا تھا کہ انہوں نے بھارت اور روس کو کھودیا ہے… چین کے ہاتھوں کھودیا ہے… اور آج ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ مودی جی… وزیر اعظم مودی جی ان کے دوست تھے‘ ہیں اور رہیں گے… یقینا ہمیں یہ سن کر اچھا لگا اور… اور اس لئے لگا کیوں کہ اپنے مودی جی کو بھی ٹرمپ صا حب کی یہ بات اچھی لگی ہے …لیکن صاحب کوئی بڑی بات نہیں ہے… اور بالکل بھی نہیں ہے کہ آئندہ ۲۴ گھنٹوں میں ٹرمپ صاحب پھر کوئی ایسی بات کہیں جس میں یہ جناب کچھ اور ہی بات کہہ ڈالیں کہ… کہ یہ جناب کب کیا کہیں … اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے… کہ اگر کل انہوں نے مودی جی کو کھودیا تھا … چین کے ہاتھوں کھو دیا تھا … ۲۴ گھنٹوں میں ایسا کیا ہو ا کہ انہوں نے انہیں واپس پا لیا… اپنے دوست کو واپس پا لیا… اب ان کی کھو دینے والی بات پر ہم بھروسہ کریں یا پھر مودی کے دوست ہونے کی بات صحیح ہے… کون سی بات صحیح ہے… یقین کریں یہ ٹرمپ صاحب خود بھی نہیں جانتے ہوں گے اور… اور اس لئے نہیں جانتے ہیں کہ… کہ جہاں تک ہم نے انہیں جانا ہے تو… تو ہم ان کے بارے میں یہ جان پائے ہیں کہ… کہ یہ جناب کچھ بھی کہہ سکتے ہیں … جو کچھ بھی ان کے منہ میں آئے ‘ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں… صاحب اگر ایسا معاملہ ہے تو… تو پھر کیا انہیں سنجیدہ نہیں لیا جانا چاہئے ؟ہماری رائے میں نہیں… ہمیں تو لگتا ہے کہ خود ٹرمپ صاحب بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ… کہ کوئی انہیں سنجیدہ لے … جس دن انہیں ایسا لگے کہ کوئی انہیں سنجیدہ لے رہا ہے… ہمیں یقین ہے کہ اُس دن سے وہ منہ سنبھال کر پہلے منہ کھولیں گے اور پھر کچھ بولیں گے … اور جب وہ بولیں گے تو… تو یا تو یہ کہیں گے کہ… کہ انہوں نے مودی جی کو چین کے ہاتھوں کھودیا ہے یا پھر انہیں اپنا دوست قرار دیں گے… کبھی یہ تو کبھی وہ‘ یہ سب باتیں کہنا ٹرمپ صاحب بند کردیں گے… اور سو فیصد کر دیں گے ۔ ہے نا؟




