حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر نے ایک بار پھر شدید سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھی ہیں۔ مسلسل بارشوں اور بھاری لینڈ سلائیڈز کے نتیجے میں کئی اضلاع میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا، دریاؤں کے کنارے ٹوٹ گئے اور بنیادی ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچا۔ جموں۔
سرینگر قومی شاہراہ جو وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد زمینی راہ ہے، چار دن تک مکمل طور پر بند رہی۔ ہزاروں گاڑیاں کٹھوعہ، ادھمپور، رام بن اور وادی میں پھنس گئیں، ضروری سامان کی ترسیل معطل ہو گئی اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بڈگام کے زونی پورہ میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیر آب آگئے۔
ضلع ریاسی میں انتظامیہ نے پندرہ روزہ مہم شروع کی تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو روکا جا سکے اور لوگوں تک صاف پانی پہنچایا جا سکے۔ سرینگر میں انتظامیہ کو فوری انتظامات کرنے پڑے تاکہ متاثرہ لوگوں کو طبی سہولیات اور پینے کا پانی مل سکے۔ یہ تمام صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سیلاب اب محض ایک وقتی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک مستقل خطرہ ہے جس کے لئے مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر میں بارش اور سیلاب کوئی نئی بات نہیں۔ ۲۰۱۴ کے تباہ کن سیلاب نے پوری وادی کو مفلوج کر دیا تھا اور اس کے بعد سے ہر سال کسی نہ کسی حد تک یہ خطرہ دہراتا رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلی اور بے ہنگم تعمیرات نے ان خطرات کو اور بڑھا دیا ہے۔
دریائے جہلم اور اس کی معاون نہریں ذرا سی بارش میں ابلنے لگتی ہیں، نکاسیٓ آب کے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور دیہات و قصبے پانی میں گھر جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت کے سامنے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ فوری ریلیف اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسی اختیار کرے جو آئندہ نقصانات کو کم سے کم کر سکے۔
سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ حکومت مستقل بنیادوں پر حفاظتی بند اور فلڈ چینلز کی مرمت اور مضبوطی کو یقینی بنائے۔ زونی پورہ میں حالیہ شگاف نے یہ واضح کر دیا کہ برسوں سے یہ بند کمزور حالت میں تھے اور بروقت ان کی مرمت نہیں کی گئی۔ اگر وقت پر اقدامات کئے جاتے تو درجنوں خاندان بے گھر نہ ہوتے۔ حکومت کو چاہئے کہ انجینئرنگ ماہرین کی مدد سے دریاؤں کے کناروں پر جدید ڈیزائن کے مطابق حفاظتی بند تعمیر کرے، فلڈ چینلز کو کشادہ کرے اور نکاسی آب کے پرانے راستوں کو بحال کرے۔
اسی طرح شہری علاقوں، خاص طور پر سرینگر شہر میں، ڈرینج سسٹم کی از سرِ نو منصوبہ بندی اشد ضروری ہے۔ حالیہ بارشوں میں شہر کے کئی علاقوں میں گھنٹوں بلکہ دنوں تک پانی جمع رہا جس سے بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ بڑھ گیا۔ میونسپل کارپوریشن اور اربن پلاننگ محکمے کو چاہئے کہ وہ نالوں کی صفائی باقاعدگی سے کریں، بارش کے پانی کے لئے الگ راستے بنائیں اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کریں جو قدرتی ڈرینج کو روک دیتی ہیں۔
حالیہ سیلاب نے یہ بھی دکھایا کہ رابطے کے ذرائع کتنے کمزور ہیں۔ قومی شاہراہ کی بندش نے وادی کو مکمل طور پر ملک سے کاٹ دیا۔ اس واحد سڑک پر انحصار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وادی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ حکومت کو متبادل راستوں پر توجہ دینی چاہئے۔ مغل روڈ اور دیگر پرانے راستوں کو ہر موسم کے قابلِ استعمال بنایا جائے تاکہ کسی ایک شاہراہ کے بند ہونے سے پوری وادی معطل نہ ہو۔
اسی طرح ریل کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آمدورفت اور سامان کی ترسیل کے لئے مزید سہولتیں پیدا ہوں۔
سیلاب کے بعد سب سے بڑا چیلنج بیماریوں کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ ریاسی میں جو مہم شروع کی گئی ہے وہ ایک مثبت قدم ہے لیکن اسے ہر ضلع میں لازمی بنایا جانا چاہئے۔ کلورین کی گولیاں، موبائل واٹر ٹیسٹنگ لیبز، اور کمیونٹی بیداری پروگرام ہر متاثرہ علاقے میں پہنچنے چاہئیں۔ سکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو صاف پانی اور صفائی کے اصولوں کے بارے میں تربیت دینا اس مہم کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ نئی نسل کو بھی ان مسائل کا ادراک ہو۔
سیلابی آفات سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔ ایمرجنسی الرٹ سسٹمز، رین فال مانیٹرنگ اسٹیشنز اور ڈیجیٹل فلڈ میپنگ جیسے اقدامات لوگوں کو بروقت خبردار کر سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں موبائل ایس ایم ایس الرٹس کے ذریعے کسانوں اور عام لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی جان و مال کو بچانے کے لئے وقت پر اقدامات کر سکیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت کو مقامی کمیونٹیز کو اس عمل میں شامل کرنا ہوگا۔ سیلاب کے وقت سب سے پہلے مقامی لوگ ہی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اگر دیہات کی سطح پر رضاکارانہ فلڈ مینجمنٹ کمیٹیاں بنائی جائیں، انہیں بنیادی ٹریننگ دی جائے اور وسائل مہیا کئے جائیں تو یہ کمیٹیاں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔
حالیہ سیلاب میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔ کئی دیہات اور قصبے دنوں تک اندھیرے میں رہے۔ اس سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوئی بلکہ طبی سہولیات اور ریلیف کاموں میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ حکومت کو چاہئے کہ ہر ضلع میں موبائل پاور یونٹس اور سولر بیسڈ بیک اپ سسٹمز نصب کرے تاکہ ہنگامی حالات میں بجلی کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی پالیسی پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ دریاؤں کے کناروں اور فلڈ زونز میں غیرقانونی تعمیرات بند ہونی چاہئیں۔ موجودہ تعمیرات کی ریگولرائزیشن کے بجائے سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مستقبل میں انسانی بستیوں کو نقصان نہ پہنچے۔
آخر میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ حکومت کو سیلاب کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر وقتی ریلیف تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ یہ ایک مستقل خطرہ ہے جس کے لئے جامع پالیسی، مضبوط ادارے اور مسلسل نگرانی درکار ہے۔ ندی نالوں کی صفائی، فلڈ زونز کی نشاندہی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، کمیونٹی کی شمولیت اور متبادل رابطہ ذرائع کی فراہمی ہی وہ اقدامات ہیں جو جموں و کشمیر کو آئندہ تباہ کاریوں سے بچا سکتے ہیں۔




