سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے رفح کراسنگ سے بے دخلی کے منصوبے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔
سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے بیانات ناقابل قبول ہیں ہم فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ غزہ شہر کے۴۰فیصد حصے پر قابض ہیں۔
غزہ شہر میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری نے فلسطینیوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا جبکہ ہزاروں نے انخلا کی اسرائیلی دھمکی کی مخالفت کا اعلان کیا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز اسرائیلی حملے سے کم از کم۵۳؍افرادہلاک ہوئے ، زیادہ تر حملے غزہ شہر میں کیے گئے جہاں اسرائیلی فوج نے مضافاتی علاقوں میں پیش قدمی کی اور اب وہ شہر کے مرکز سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے زیتون اور شیخ رضوان علاقوں کا نام لیتے ہوئے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ہم فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، آج ہم غزہ شہر کے ۴۰فیصد علاقے پر قابض ہیں۔
دریں اثناغزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید ۶۹فلسطینی ہلاک جبکہ ۴۰۰سے زائد زخمی ہوگئے ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ جمعہ کو اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں واقع مشتاحہ ٹاورکو نشانہ بنا یا۔
اسرائیلی فوج نے عمارت فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے زیراستعمال ہونے کا دعویٰ کیا۔ گزشتہ۲۴گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید ۶۹فلسطینی ہلاک ہوئے ۔ان حملوں میں۴۲۲فلسطینی زخمی بھی ہوئے ۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں روزانہ کی بنیاد پر۲۸فلسطینی بچے ہلاک ہونے لگے ۔ غزہ میں اب تک ہلاک ہونے والوں میں۳۰فیصد تعداد فلسطینی بچوں کی ہے ۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وزارتِ صحت نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت احمد شہادہ کے طور پر کی ہے ، جن کی عمر۵۷برس تھی اور مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج ان کی لاش اپنے ساتھ لے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔








