روس کے صدر ولادیمیر پتن نے پیرس سربراہی اجلاس کے بعد جنگ بندی نافذ ہونے کے ایک دن بعد یوکرین میں فوجیوں کو ‘‘یقین دہانی کی قوت’’ کے طور پر تعینات کرنے کی مغربی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے ۔
فرانسیسی صدر ایمنوئل میکروں نے کہا کہ یوکرین کے ۲۶؍اتحادی ممالک نے لڑائی بند ہونے کے بعد سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے’زمین، سمندر یا فضا‘سے فوجی تعینات کرنے کا باضابطہ عزم ظاہرکیا ہے ۔
بی بی سی کی خبر کے مطابق، مسٹر میکروں نے اس میں شامل کسی بھی ملک کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
پتن نے اتحادیوں کی کوششوں کو مسترد کرنے کی کوشش کی اور متنبہ کیا کہ یوکرین میں تعینات کوئی بھی فوجی ‘‘جائز ہدف’’ ہو گا، خاص طور پر اگر وہ ابھی دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ رپورٹ کے مطابق، تعیناتی کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے ۔
پتن نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ یوکرینی رہنما سے رابطہ کے لیے تیار ہیں ‘‘لیکن مجھے اس میں کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اہم معاملات پر یوکرینی فریق کے ساتھ معاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔’’
میکروں نے زور دیا کہ فوجیوں کو ‘‘کسی بھی نئی بڑے حملے ’’ کو روکنے کے لیے تعیناتی کی جائے گا، نہ کہ اگلے محاذوں پر۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے پاس روس کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ارادہ یا مقصد نہیں تھا۔
زیلنسکی نے جمعرات کو پیرس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو پہلا ٹھوس قدم قرار دیا اور جمعہ کو کہا کہ ہزاروں غیر ملکی فوجی تعینات کیے جائیں گے ، حالانکہ اس بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے ۔
پتن نے روس میں یوکرین کے ساتھ سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے ۔
زیلنسکی نے کہا کہ ہم کسی بھی فارمیٹ، دو طرفہ میٹنگ، سہ فریقی میٹنگ کی حمایت کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ روس اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔










