گذشتہ ہفتے صنعا میں ایک فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے میں۱۲حوثی ارکان مارے گئے ۔
فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو ہوئے حملوں میں یمنی دارالحکومت میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جسے سینئر حوثی کمانڈرز استعمال کرتے تھے ، جہاں فوجی افسر اور حکومتی وزراء موجود تھے ۔
بیان میں ان افسران کا نام نہیں لیا گیا لیکن حوثیوں نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ حوثی حکومت کے وزیر اعظم احمد غالب الرھوی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو اسرائیل پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم کیا۔
فوج نے کہا کہ حوثی گروپ نے جمعرات کو ایک میزائل داغا جو اسرائیل کے باہر گرا اور دو ڈرون فائر کیے جنہیں روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے بدھ کے روز بھی دو میزائل داغے جنہیں دفاعی نظام نے فضا میں ہی روک دیا۔
حوثی گروپ نے پیر کو بحیرہ احمر میں ایک میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں اسرائیلی ٹینکر، اسکارلیٹ رے کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ گروپ، جو شمالی یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہے ، نومبر ۲۰۲۳سے غزہ جنگ میں فلسطین کی حمایت میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون فائر کر رہا ہے ۔ اسرائیل نے صنعا اور بحیرہ احمر کی بندرگاہ سمیت حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ کر کے جواب دیا ہے ۔










