چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کا اندرونی احوال سامنے آگیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا جہاں انہیں پہلی مرتبہ عالمی ر
ہنماؤں کے ساتھ منظر عام پر دیکھا گیا۔ انہوں نے چینی صدر کی خصوصی دعوت پر دورہ کیا اور چین کی غیر معمولی فوجی پریڈ میں شرکت کی جس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سمیت ۲۶عالمی رہنما موجود تھے ۔
دورے کے دوران کم جونگ ان نے شی جن پنگ سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ شمالی کوریا خودمختاری، علاقے اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کیلیے چین کی حمایت جاری رکھے گا۔
دارالحکومت بیجنگ میں دوطرفہ بات چیت کے دوران کم جونگ ان نے چینی صدر سے کہا کہ چاہے بین الاقوامی حالات کیسے ہی ہوں لیکن شمالی کوریا اور چین کے درمیان دوستی کا احساس نہیں بدل سکتا۔
اس موقع پر شی جن پنگ نے کم جونگ ان کو بتایا کہ چین اور شمالی کوریا اچھے پڑوسی، اچھے دوست اور اچھے ساتھی ہیں جن کی قسمت ایک ہے ۔
دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی اور علاقائی مسائل میں مشترکہ مفادات کے تحفظ اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان مزید دوروں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک رابطے پر تبادلہ خیال کیا۔
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر گزشتہ روز (جمعرات) چین کا غیر معمولی دورہ مکمل کرکے وطن لوٹ گئے ۔ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار اور وزیر خارجہ سمیت سینئر چینی حکام نے انہیں رخصت کیا۔
کم جونگ ان کا دورہ چین ایک تاریخی موقع تھا جس نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کیا۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ روز شمالی کوریا کے یوم تاسیس کے موقع پر کم جونگ ان کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔







