ابھی کل ہی کی بات ہے… بالکل کل کی بات جب کشمیر پریشان تھا … اس بات کیلئے پریشان تھا کہ آسمان اور آسمان والا شاید ہم سے ناراض ہے‘ خفا ہے‘ روٹھا ہوا ہے جو… جو بارش کی ایک بوند بھی ہمیں عنایت نہیں کررہا ہے… مساجد اور خانقاہوں میں خصوصی دعائیہ مجالس ہو رہی تھیں تاکہ اللہ میاں سے بارشوں کی استدعا کی جائے… سرکار بھی پریشان تھی… اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ کچھ زیادہ ہی پریشان تھے کہ… کہ اب گرما میںکیا ہو گا… لوگ ایک ایک بوند کیلئے ترس جائیں گے … ایسے میں ہم کریں تو کیا کریں … وزیر اعلیٰ اس لئے بھی پریشان تھے کہ انہیں معلوم تھا …انہیں خبر تھی کہ ان کی انتظامیہ کتنی نکمی ہے… اتنی نکمی کہ … کہ وہ لوگوں کو سچ میں پانی کی ایک بوند بھی فراہم نہیں کر سکتی تھی… لیکن کہتے ہیں نا کہ اللہ میاں جو جانتا ہے وہ کوئی نہیں جانتا ہے… کوئی جان نہیں سکتا ہے اور… اور آج دیکھئے کہ آج کشمیر سیلاب کے دہانے پر ہے… کئی رہائشی علاقوں میں تو پانی گھس بھی گیا ہے… کئی بستیوں کو خالی کردیا گیا ہے… کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور… اور یہ سب اس لئے ہوا کہ… کہ اللہ میاں کے آسمانوں سے تھوڑاساجل کیابرس گیا کہ…کہ اسے ہم نکمے لوگ سنبھال نہیں سکے… یقین کریں کہ زیادہ جل نہیں بر س گیا … مشکل سے ایک رات کی بارش ہو ئی اور… اور اگلے روز پانی ہی پانی… نہیں صاحب ہم یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ …کہ یہ قدرتی آفت ہے‘ جس کے سامنے حضرت انسان بے بس ہو تا ہے… ہم یہ مانتے نہیں ہیں اور… اور اس لئے نہیں مانتے ہیں کہ ۲۰۱۴ میںہم نے دیکھا … یہ دیکھا کہ کئی دنوں کی موسلادھار بارشوں کے بعد کشمیر میں سیلاب آیا … وہ یقینا قدرتی آفت تھی… یہ نہیں ‘ آج کی نہیں کہ بھلا ایک رات کی بارشوں سے کون اور کہاں سیلاب آتا ہے جو یہاں آیا … یا آنے کی دہلیز پر تھا؟سچ تو صاحب یہ ہے کہ… کہ ہم نے آبگاہوں پر قبضہ کیا … تجاوزات کیں… پانی کے اخراج کے راستوں کو بند کیا … انہیں مسدود کیا اور… اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے… اور یہ نتیجہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں ہے … بالکل بھی نہیں ہے… ہمارے اپنے کرموں کا … اعمال کا ہے‘ خود غرضی اور لالچ کا ہے کہ ہم نے آبگاہوں تک کو نہیں بخشا۔ ہے نا؟



