نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی) جرمنی نے بدھ کو کہا کہ وہ ہندوستان اور 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین (ای یو) کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے ) کا زبردست حامی ہے اور اسے امید ہے کہ یہ معاہدہ اس سال کے آخر تک ہو سکتا ہے ۔
جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈ فُل جو ہندوستان کے دورے پر ہیں، نے آج یہاں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جرمنی یورپی یونین اور ہندوستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا زبردست حامی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان-یورپی یونین ایف ٹی اے اس سال کے آخر تک ہو جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین ہندوستان کی اشیاء اور خدمات کے لیے ایک بڑی منڈی ہے اور ایف ٹی اے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔ جرمنی یورپی یونین کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور تجارت اور سرمایہ کاری میں ہندوستان کا ایک بڑا شراکت دار ہے ۔
اس موقع پر مسٹر ویڈفل نے دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر ہندوستان کے نقطہ نظر کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر ہندوستان کے ساتھ ہے ۔
یوکرین روس جنگ کے بارے میں انہوں نے کہا، ‘ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی، تو انہوں نے یوکرین میں امن کے لیے جلد از جلد معاہدے پر زور دیا۔’ جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد امن بحال ہو جائے ۔
ہندوستان اور چین کے تعلقات کے بارے میں مسٹر ویڈفل نے کہا کہ جرمنی اسے مثبت طور پر دیکھتا ہے لیکن ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ عالمی نظام کو اس کی حقیقی شکل میں برقرار رکھنے کے لیے ہمیں چین کے تئیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ جرمنی چین کو ایک مدمقابل کے طور پر دیکھتا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ تیانجن میں وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی دو طرفہ ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو حریف کے طور پر نہیں بلکہ شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔
مسٹر ویڈفل نے آج تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل کے ساتھ بھی ہندوستان اور جرمنی کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے پر بات چیت کی۔









