کراکس/۲ستمبر
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے دعویٰ کیا ہے کہ۸؍امریکی بحری جنگی جہاز۱۲۰۰میزائلوں کے ساتھ ان کے ملک کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو مجرمانہ اور خونریز دھمکی ہے ۔
ڈان نیوز میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ مادورو پر منشیات کے ایک کارٹیل کی قیادت کرنے کا الزام لگاتا ہے اور جنوبی کیریبین میں انسدادِ منشیات آپریشن کے تحت جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔
کراکس میں پیر کو بین الاقوامی میڈیا سے ملاقات میں صدر نکولس مادورو نے کہا کہ ہمارے براعظم نے پچھلے۱۰۰برسوں میں سب سے بڑا خطرہ دیکھا ہے ‘۸بحری جنگی جہازوں کی صورت میں جن پر ایک ہزار ۲۰۰میزائل ہیں اور ایک آبدوز بھی ہے جو وینزویلا کو نشانہ بنا رہی ہے ۔
وینزویلا کے صدر کے۲۰۲۴؍اور ۲۰۱۸کے حالیہ دونوں انتخابات کو امریکہ اور عالمی برادری کے بیشتر ممالک نے تسلیم نہیں کیا ہے ۔ نکلوس مادورو نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ فوجی دباؤ کے جواب میں ہم نے وینزویلا کے دفاع کے لیے زیادہ سے زیادہ تیاری کا اعلان کیا ہے ۔
واشنگٹن نے مادورو کی گرفتاری پر انعام کی رقم دگنی کر کے۵۰ملین ڈالر کردی ہے لیکن وینزویلا پر حملے کی کوئی سرکاری دھمکی نہیں دی۔ کراکس نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقائی پانیوں کی نگرانی کرے گا اور امریکی ‘دھمکیوں’ کے جواب میں ۴۰لاکھ سے زائد ملیشیا اراکین کو متحرک کرے گا۔ مادورو نے افسوس ظاہر کیا کہ امریکہ کے ساتھ رابطے کے چینلز ختم ہو گئے ، اور عزم ظاہر کیا کہ ان کا ملک ‘کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کے آگے کبھی نہیں جھکے گا’۔
مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ ان کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو انہیں وینزویلا کے عوام کے خلاف قتلِ عام کے ساتھ خونریزی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔






