اندازہ لگائیے … اور یقین کیجئے کہ اب کی بار اندازہ لگانا بالکل بھی مشکل نہیں ہے کہ اپنے ٹرمپ صاحب… ڈونالڈ ٹرمپ صاحب کی حالت اس وقت کیسی ہو گی…اللہ میاں کی قسم تڑپ رہے ہوں گے ‘ بن پانی کے مچھلی کی ٹرپ رہے ہوں گے اورمن ہی من خود کو کوستے ہوں گے کہ انہوں نے یہ کیا کیا… اور انہوں نے جو کیا وہ انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا… بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا… لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ اب کیا پچھتاوے جب چڑیا چُگ گئی کھیت… یہ تو ٹرمپ صاحب کو سوچنے تھا… بہت پہلے سوچنا تھا کہ بھارت ایسا ویسا کوئی دیش نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ… کہ جس کے ساتھ وہ من مرضی کر سکیں… اسے اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کر سکیں… اس پر اپنی مرضی مسلط کر سکیں… نہیں ٹرمپ صاحب‘نہیں !ایسا نہیں ہے‘ آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں… نہیں کر سکتے تھے۔ اوریہ بات اب آپ کی سمجھ میں آ بھی گئی ہو گی… دیر سے ہی سہی لیکن سمجھ میں آگئی … دیر اتنی ہو ئی کہ… کہ بھارت آج آپ کے دو دشمن… معاف کیجئے دو حریفوں کے ساتھ گلے مل رہا ہے… ان کے ساتھ ہنس کھیل رہا ہے … اور یہ منظر … وزیر اعظم مودی کا چین اور روس کے صدور کے ساتھ ہاتھ ملانا… گلے ملنے… یقینا یہ تصویر … یہ منظر دیکھنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے… کہ… کہ آپ اس کو دیکھ نہیں سکتے ہیں… لیکن کیا کیجئے گا کہ… کہ تائجن میں آپ نے جو کچھ بھی ہوتے ہو ئے دیکھا… جو کچھ بھی… وہ سب آپ کی وجہ سے ہی ہوا… آپ خود وہاں موجود نہیں تھے… لیکن وہاں جو کچھ بھی ہوا … روس ‘ بھارت اور چین میں ہوا… آپ کی وجہ سے ہوا اور… اور ہم جانتے ہیں کہ جو ہوا اس سے آپ کو تکلیف ہوئی ہوگی… آپ پریشان ہوئے ہوں گے‘ آپ کا بلڈ پریشر نئی بلندیوں کو چھو گیا ہو گا… آپ اپنا آپا کھو بیٹھیں ہو ں گے… آپ کے منہ سے آگ نکل رہی ہو گی… آپ کا تن بدن ‘ آپ کا پورا وجود سرخ انگارے جیسا ہوا ہو گا… آپ کو سمجھ نہیں آ رہی ہو گی کہ … کہ اب آپ کریں تو کیا کریں کہ… کہ جو آپ چاہتے تھے وہ نہیں ہوا… آپ بھارت کو جھکتا دیکھنا چاہتے تھے‘آپ کے اشاروں پر اسے ناچتا دیکھنا چاہتے تھے… لیکن ٹرمپ صاحب دیکھ لیجئے … خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے کہ ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا اور… اور تائجن میں جو ہوا ممکن ہے کہ کل کو آپ کو بھارت کے اشاروں پر ناچتا ہوا دیکھے گی… دینا دیکھے گی ۔ ہے نا؟




