جموں میں حالیہ دنوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے انسانی جانوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ طوفانی بارشوں، ندی نالوں کے اْبلنے اور زمین کھسکنے کے واقعات نے پورے خطے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ سینکڑوں گاؤں ڈوب گئے، پل اور سڑکیں بہہ گئیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ اس قدرتی آفت نے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں لے لیں بلکہ ہزاروں افراد کو زخمی اور لاکھوں کو متاثر بھی کیا۔
حالات کی سنگینی نے لوگوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا تھا لیکن ایسے وقت میں بھارتی حکومت نے واضح الفاظ میں یقین دہانی کرائی کہ جموں کے عوام کو اس مصیبت میں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ یقین دہانی متاثرین کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے جن کی زندگیاں لمحوں میں برباد ہو گئی تھیں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد شروع کے چند ہی گھنٹوں میں مرکزی حکومت حرکت میں آ گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ذاتی طور پر صورتِ حال پر نظر رکھی اور مرکزی ایجنسیوں و ریاستی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہے۔ اْنہوں نے متاثرہ عوام کو پیغام دیا کہ پوری قوم اْن کے ساتھ ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعظم نے فوری طور پر وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے خطیر رقم فراہم کرنے کا اعلان کیا اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے بھی وسائل بروئے کار لانے کی اجازت دی تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تاخیر نہ ہو۔ اْنہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے جس کا مقصد جانیں بچانا، بنیادی سہولیات بحال کرنا اور تباہ حال خطے کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے۔ ان اعلانات کے بعد نقد رقوم کی فراہمی، خوراک، ادویات، عارضی پناہ گاہیں اور دیگر سہولیات متاثرین تک پہنچانا شروع کر دی گئیں۔
وفاقی وزیر داخلہ‘امت شاہ نے خود جموں کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور تباہ شدہ دیہات کا جائزہ لے کر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ اْنہوں نے یہ پیغام دیا کہ مرکز نہ صرف فوری راحت پہنچانے کے لیے پرعزم ہے بلکہ بحالی اور تعمیر نو کے عمل تک جموں کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
وزیر داخلہ نے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، فوج، فضائیہ اور نیم فوجی دستوں کو ہدایت دی کہ وہ مسلسل بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ ہزاروں افراد کو ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ متاثرین کے لیے خیمے نصب کیے گئے، کمبل، دودھ پاؤڈر، ضروری دوائیں اور خوراک پہنچائی گئی تاکہ کوئی بھی خاندان محروم نہ رہ جائے۔ جہاں سڑکیں ٹوٹ گئیں وہاں فضائی راستے سے امداد پہنچائی جا رہی ہے تاکہ دور دراز کے دیہات بھی تنہا نہ رہیں۔
یو ٹی سطح پر بھی حکومت نے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا۔ وزیر اعلیٰ نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا، متاثرین سے ہمدردی ظاہر کی اور مرکز کی بروقت مدد پر شکریہ ادا کیا۔ تاہم تباہی کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے سیاسی و سماجی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جموں کے لیے مزید بڑے مالیاتی پیکیج کی ضرورت ہے۔ کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تباہی ۲۰۱۴ میں کشمیر میں آنے والے سیلاب سے بھی زیادہ شدید ہے، اس لیے ایک بڑا خصوصی پیکیج دیا جانا چاہیے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر، کھیتوں اور مکانات کی بحالی اور لاکھوں متاثرہ افراد کی آبادکاری ممکن ہو سکے۔
حکومت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ ایسی آفات اب ایک معمول بنتی جا رہی ہیں اور یہ صرف ایک وقتی حادثہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے موسمی پیٹرن کا نتیجہ ہے۔ وزیر داخلہ نے محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ کلاؤڈ برسٹ کے پیٹرن کا مطالعہ کریں اور وارننگ سسٹم کو مزید مضبوط بنائیں۔ مقصد یہ ہے کہ بروقت الرٹ جاری کر کے آبادیوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیزاسٹر پروف انفراسٹرکچر اور مقامی کمیونٹی کی تربیت جیسے اقدامات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت کی یہ یقین دہانی محض زبانی کلمات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہو رہی ہے۔ متاثرین کے لیے نقد امداد، خیمے، راشن، دوائیں، پینے کے پانی کی فراہمی اور ٹوٹے ہوئے پلوں و سڑکوں کی مرمت، سبھی اقدامات اس عزم کی دلیل ہیں کہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ متاثرین کے لیے یہ یقین دہانی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو از سر نو بسانے کی امید رکھ سکتے ہیں۔
اس کے باوجود چیلنجز بے پناہ ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنے گھروں اور کھیتوں سے محروم ہو گئے ہیں اور دوبارہ تعمیر کا عمل طویل اور مشکل ہوگا۔ عارضی کیمپوں کو تب تک سہولیات فراہم کرنا ہوں گی جب تک لوگ واپس اپنے گھروں میں آباد نہیں ہو جاتے۔ پلوں اور سڑکوں کی تعمیرِ نو لازمی ہے تاکہ دیہات دوبارہ جڑ سکیں۔ کسانوں کو زرعی معاوضہ اور مویشیوں کے نقصان کا ازالہ ملنا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ کھیتی باڑی شروع کر سکیں۔ اسکولوں اور اسپتالوں کی بحالی بھی فوری ضرورت ہے تاکہ معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔ یہ سب کام وقت طلب ہیں لیکن اگر مرکز اور ریاست مل کر کام جاری رکھیں تو بحالی ناممکن نہیں۔
جموں کے یہ سیلاب فطرت کی طاقت اور انسانی بے بسی کی یاد دہانی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ قومی اتحاد اور اجتماعی ہمدردی کی بھی مثال ہیں۔ بھارتی حکومت کا یہ یقین دلانا کہ متاثرین کو ہر ممکن مدد ملے گی، اْن کے دکھوں کو کم کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ آنے والے ہفتے اور مہینے اس عزم کے امتحان ہوں گے، لیکن اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ المیہ بحالی اور حوصلے کی ایک نئی داستان بن سکتا ہے۔
جموں کے عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ اْن کی زندگیاں پوری شفقت اور بھرپور سہارا کے ساتھ دوبارہ تعمیر ہوں، اور حکومت کی یہ یقین دہانی اس سمت میں پہلا مضبوط قدم ہے۔




