معروف موسمی ماہر سونم لوٹس نے ہفتے کے روز کہا کہ موجودہ مانسون کا دورانیہ…جولائی ، اگست اور وسط ستمبرِسال کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے ، جو اکثر بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب سے منسلک ہوتا ہے۔
لوٹس نے کہا کہ ۳۱؍ اگست سے۳ستمبر کے درمیان جنوبی کشمیر ، وادی چناب اور جموں ڈویڑن کے کچھ حصوں میں خاص طور پر صبح کے اوقات میں بھاری بارش کا امکان ہے۔
ماہر موسمیات نے وضاحت کی’’موجودہ مانسون کا دورانیہ،جولائی، اگست، اور وسط ستمبر،سال کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے، جو اکثر بادل پھٹنے اور اچانک طوفانوں سے منسلک ہوتا ہے۔ جب بھی اس موسم میں بارش ہوتی ہے، یہ اکثر بادل پھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر ۴۸ گھنٹوں تک مسلسل بارش ہو تو زمین سیراب ہو جاتی ہے، جس سے مٹی کے تودے‘ اچانک طوفانوں، اور کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دورانیے میں دونوں انتظامیہ اور عوام کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے‘‘۔
لوٹس نے کہا کہ اگرچہ پہاڑی علاقوں میں اس طرح کا شدید موسم عام ہے ، لیکن ماہرین موسمیات کیلئے بادل پھٹنے کے صحیح مقام کی نشاندہی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔تاہم ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے ، خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے دریا کے کناروں یا سیلاب کے راستوں پر مکانات بنائے ہیں۔
ماہر موسمیات نے کہا’’بہت سے لوگوں نے سیلاب کے نالوں کے ساتھ مکانات تعمیر کیے ہیں۔ جب پانی کی سطح بڑھتی ہے تو ایسے مکانات بہہ جانے کے پابند ہوتے ہیں۔ حکام کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیلاب کے میدانی علاقوں میں کسی بھی تعمیر کی اجازت نہ ہو۔ لوگوں کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قدرت کے راستے کو روکا نہیں جا سکتا‘‘۔
لوٹس نے مستند معلومات اور میڈیا کی ذمہ داری کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے سوشل میڈیا پر موسم کی جعلی اپ ڈیٹس کی گردش کی مذمت کی ، جو اکثر لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور خوف و ہراس پھیلاتی ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’حال ہی میں‘میں نے سوشل میڈیا پر۵ستمبر کو برف باری کا دعوی کرنے والی جھوٹی خبریں دیکھیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اگر بروقت اور مستند مشورے جاری کیے جائیں…خراب موسم سے کم از کم ۲۴ گھنٹے پہلے‘تو بہت سی آفات کو روکا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو سرکاری ذرائع سے موسمی بلیٹنوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ‘‘۔
لوٹس نے پیش گوئی کی کہ۴ستمبر کے بعد موسم خشک اور مستحکم ہونے کی توقع ہے ، لیکن خبردار کیا کہ مانسون کے نمونے تیزی سے بدل سکتے ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’موسم کے یہ نمونے نئے نہیں ہیں ‘ یہ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر ان لوگوں کے لیے دکھ ہو رہا ہے جنہوں نے حال ہی میں جموں ڈویڑن میں بادل پھٹنے اور سیلاب کی وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں۔ میں مرحومین کی روحوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں۔ میری واحد اپیل یہ ہے کہ لوگ چوکس رہیں اور مشوروں کے ساتھ تعاون کریں۔








