جموں کشمیر کے ریاسی اور رامبن اضلاع میں گزشتہ شب شدید بارشوں کے نتیجے میں بادل پھٹنے اورتودے گرنے کے دو الگ الگ واقعات میں کم از کم۱۱؍افراد لقمۂ اجل بن گئے ، جن میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق‘ صرف گزشتہ دو ہفتوں میں جموں خطے میں بادل پھٹنے ، مٹی کے تودے گر نے اور بارشوں سے جڑے حادثات میں۱۳۰؍افراد جاں بحق،۱۴۰؍زخمی اور۳۲یاتری لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ریاسی ضلع کے دورافتادہ گاؤں میں ہفتے کی علی الصبح ایک مکان مٹی کے تودے تلے دب گیا، جس میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے ۔
مرنے والوں کی شناخت نذیر احمد ، ان کی اہلیہ وزیرا بیگم اور ان کے پانچ بیٹوں تیرہ سالہ بلال احمد ، گیارہ سالہ محمد مصطفی ، آٹھ سالہ محمد عادل ، چھ سالہ محمد مبارک اورپانچ سالہ محمد وسیم کے طور پر کی گئی ہے ۔
افسران کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہل خانہ گہری نیند سو رہے تھے اور اچانک مٹی اور پتھروں کا بھاری تودہ مکان پر آ گرا۔ مقامی لوگوں نے ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی انتھک کوشش کی، مگر صرف لاشیں ہی برآمد کی جا سکیں۔
دریں اثنا رامبن ضلع کے راج گڑھ علاقے میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے گیارہ بجے بادل پھٹنے سے پیدا ہونے والی طغیانی نے دو رہائشی مکانات، ایک مویشی خانہ اور ایک اسکول کی عمارت بہا لی۔
اس حادثے میں چار افراد ہلاک ہوئے ، جن کی شناخت اشونی شرما ، ان کے بھائی دوارکا ناتھ ، بھتیجی ورتا دیوی اور ان کا مہمان اوم راج کے طور پر کی گئی ہے ۔
ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان نے بتایا کہ مقامی رضاکاروں، پولیس اور ایس ڈی آر ایف نے رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رکھا، جس دوران لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کی ایک خاتون، ودیا دیوی ، تاحال لاپتہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ خطرے والے علاقوں پر نظر رکھی جائے ، متاثرین کی بروقت منتقلی یقینی بنائی جائے اور محکمہ جات قریبی رابطے میں رہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کمزور ڈھلوانوں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور سرکاری ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا’’یہ ایک المناک سانحہ ہے ، ہم متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘‘ ۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور فوری ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا۔
ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق، گزشتہ۲۴گھنٹوں میں بدرواہ میں سب سے زیادہ۶ئ۵۱ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جب کہ کٹرہ میں۴۲ملی میٹر، کٹھوعہ میں۳۲ملی میٹر اور بانہال،رام بن میں۸ئ۱۶ملی میٹر بارش ہوئی۔
محکمے نے آئندہ ۲۴گھنٹوں کے دوران جموں، ریاسی، راجوری، کٹھوعہ اور ڈوڈہ سمیت کئی اضلاع میں مزید بھاری بارش اور اچانک سیلاب یا پسوائی کے خطرے سے خبردار کیا ہے ۔
ادھر ریکارڈ بارشوں کے باعث جموں خطے کی شاہراہیں اور ریلوے ٹریک شدید متاثر ہیں‘درجنوں پل اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔
اس دوران جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ریاسی اور رام بن اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹنے کے واقعات سے انسانی جانوں کے زیاں پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
واضح رہے کہ ریاسی کے ایک دور افتادہ بھدر گاؤں میں موسلا دھار بارش سے گر آنے والے ایک بھاری بھر کم مٹی کے تودے نے ایک کچے مکان کو اپنی زد میں لے لیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے جبکہ رام بن کے راج گڑھ تحصیل کے ایک گائوں میں بادل پھٹنے سے۳؍افراد کی موت جبکہ۲لاپتہ ہوئے ہیں۔
سنہا نے ان دونوں واقعات پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔
ایل جی نے ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’ریاسی اور رام بن اضلاع میں بادل پھٹنے اور بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہونے سے دکھ ہوا‘‘۔انہوں نے سوگوار کنبوں کے ساتھ تعزیت کی۔
سنہا کا کہنا تھا’’اعلیٰ حکام سے بات کی اور صورتحال کا جائزہ لیا، ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے










