کرائم برانچ کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ نے اراضی فراڈ کیس میں دو بدنام زمانہ دھوکہ بازوں کے خلاف دو الگ الگ مقدمے درج کئے ہیں۔
ونگ کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی جرائم ونگ (کرائم برانچ کشمیر) نے زمین دھوکہ دہی کے دو الگ الگ مقدمات میں دو دھوکہ بازوں کے خلاف مقدمے درج کئے ۔
ترجمان نے کہا کہ یہ مقدمے ریاض احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن نوگام سری نگر اور شبیر احمد وانی ولد محمد اسماعیل وانی ساکن لسجن سری نگر کے خلاف درج کیے گئے ہیں جو دھوکہ دہی سے جائیداد فروخت کرنے ، ریونیو دستاویزات کی جعلسازی وغیرہ میں ملوث ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک کیس ایک خاتون کی طرف سے جمع کرائی گئی شکایت پر درج کیا گیا ہے جس نے الزام لگایا ہے کہ ملزم ریاض احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن نوگام سری نگر نے اسے موضع بالہامہ میں واقع ایک کنال اور۵مرلہ اراضی کا ٹکڑا سروے نمبر ۳۱۲، کھیوٹ نمبر۲۷؍اور کھاتہ نمبر ۲۰کو۲۵لاکھ روپیے کے عوض فروخت کیا۔ تاہم اسے کوئی زمین فراہم نہیں کی گئی اور اس کے بجائے مذکورہ زمین کسی اور شخص کو فروخت کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور مقدمہ ایک فرد کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر درج کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان ریاض احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن نوگام سری نگر اور شبیر احمد وانی ولد محمد اسماعیل وانی ساکن لسجن سری نگر نے شکایت کنندہ کو ایک کنال اور۱۰مرلہ اراضی واقع بالہامہ پانتھہ چوک سری نگر میں سروے نمبر۳۱۵/۱۶۸۳من، کھیوٹ نمبر۴۵؍اور کھاتہ نمبر۳۱۷کو ۷۳لاکھ روپیے کے عوض فروخت کیا جس کے لیے سیل ڈیڈ بھی رجسٹرڈ ہے ۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ تاہم، ملزمان نے ریونیو حکام کے ساتھ ملی بھگت سے ریونیو ریکارڈ میں جعلسازی کی اور مذکورہ زمین کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دی اور اس طرح۷۳لاکھ روپیوں کی رقم ہڑپ کر لی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاض احمد بٹ اور شبیر احمد وانی دونوں ایک سابقہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر۲۰۲۵/۱۴میں بھی ملوث تھے اور انہیں اس سے قبل اقتصادی جرائم ونگ (کرائم برانچ کشمیر) نے اسی طرح کے جرائم میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی جرائم نے دونوں کیسوں کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تیسرے فریق کے عہدیداروں کی کسی بھی شمولیت پر قانون کے تحت سختی سے تعاقب کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ مزید کارروائی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی







