نئی دہلی، 28 اگست (یواین آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعرات کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی طرف سے بہار کے دربھنگہ میں ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ پر اعتراض درج کیا اور کانگریس کو گالی گلوچ کرنے والی پارٹی قرار دیا۔
پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی آنجہانی والدہ کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس نے جمہوریت کو شرمندہ کیا ہے۔ بی جے پی ترجمان نے کہا کہ بہار میں ایک یاترا چل رہی ہے اور اس یاترا میں جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ بڑے دکھ اور غصے کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ایک حد ہوتی ہے، سشما جی نے ایک بار ایوان میں کہا تھا کہ ہم دشمن نہیں، نظریات کی بنیاد پر مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس زبان کے باپ راہل گاندھی ہیں، جنہوں نے دربھنگہ ریلی کے اسٹیج سے وزیر اعظم کی ماں اور وزیر اعظم کے لیے غلط الفاظ کا استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے تقریباً 5-7 دن پہلے سے راہل گاندھی وزیراعظم کوٹو کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ پاترا نے کہا کہ جس پارٹی نے خود کو جدوجہد آزادی سے جوڑا وہ گاندھی جی کی پارٹی تھی۔ لیکن، جو پارٹی آج خود کو نام نہاد انداز میں جدوجہد آزادی سے جوڑتی ہے، وہ گالیاں دینے والی جماعت بن چکی ہے۔
یہ مہاتما گاندھی کی پارٹی نہیں ہے، بلکہ نام نہاد جعلی گاندھی خاندان کی پارٹی ہے۔ پاترا نے کہا کہ آج زبان کے وقار کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جو خود کو ہندوستانی جدوجہد آزادی سے جوڑتی ہے، راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم اور ان کی آنجہانی والدہ کے لیے استعمال کی گئی تلخ اور فحش زبان پر شرم آنی چاہیے۔ پاترا نے راہل گاندھی کی زبان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ تکبر سے بھرے ہوئے ہیں۔ اانہیں لگتا ہے کہ ہندوستان ان کا ہے۔ ہندوستان میں انہیں کرسی نہیں ملتی تو وہ جمہوری طور پر منتخب شخص کو گالی بھی دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ملک کے جمہوری اداروں پر الزامات لگانے کے ساتھ ساتھ نازیبا زبان بھی استعمال کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ بہار کے لوگ اس قسم کی زبان کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا اندازہ کر رہے ہیں اور وقت آنے پر اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گالی گلوچ کے استعمال میں راہل گاندھی، سنجے راوت اور منی شنکر ایر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پاترا نے کہا کہ راہل گاندھی وزیر اعظم اور ملک کے جمہوری اداروں، سی بی آئی، الیکشن کمیشن، ای ڈی وغیرہ کے خلاف الزام لگا رہے ہیں اور ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔










