جانتے اور مانتے ہیں کہ کچھ لوگ ناراض ہوں گے … سو فیصد ناراض ہو ں گے کہ ہم نے… بھارت نے ایسا کیوں کیا … اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا … اس نے ایسا کرکے غلطی کی کہ… کہ سرحد پار ہمارا جو دشمن بیٹھا ہے وہ کسی بھی طرح کی رعایت اور ہمدردی کا مستحق نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… اللہ میاں کی قسم ہم یہ سب جانتے ہیں… لیکن کیا کیجئے کہ اگر ہم بھی اس جیسا ہی بن جائیں گے… تو پھر اُس میں اور ہم میں… دشمن اور ہم میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گی… بالکل بھی نہیں رہ جائیگی… اور یہی بات سمجھنے کی ہے… کہ… کہ ہم پہلے دن سے کہتے آئے ہیں کہ ہم دشمن جیسے نہیںہیں… اور نہ دشمن ہمارے جیسا … وہ ہم جیسا ہو بھی نہیں سکتا ہے … اس میں اور ہم میں فرق ہے… زمین و آسمان کا فرق ہے… کبھی یہ فرق اس نے واضح کر دی تو کبھی ہم نے… اس نے یہ فرق پہلگام میں نہتوں پر گولیاں چلا کر واضح کر دی تو… تو ہم نے ۶ تا۱۰ مئی کو اس فرق کو مزید واضح کردیا … اسے سمجھاجایا کہ صاحب ہم ہم ہیں اور تم تم ہو … ہم نے ایک بار پھر یہ فرق اس وقت واضح کر دی جب اسے خبر دار کیا… اس بات سے خبر دار کیا کہ … کہ جموں صوبے میں توی اور چناب دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں‘ ان کا بہاؤبڑا تیز ہے… تمہاری لوگوں کو خطر ہو سکتا ہے… تمہارے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے… اگر بچا سکتے ہو تو… تو اپنے لوگوں کو بچاؤ … اور… اور یہ کہہ کر ہم نے اس فرق کو اورگہرا کر دیا… یقینا اس سے ہمارے ہاں کئی لوگ خفا ہیں کہ… کہ اگر دشمن سے معلومات شیئر کرنی ہی تھیں تو … تو پھر سندھ طاس معاہدے کو غیر فعال کیوں کردیا گیا… سوال یقینا متعلقہ ہے… اور سو فیصد ہے… لیکن ہم نے جو کیا وہ …وہ انسانی ہمدردی کے تحت کیا… انسانیت کے ناطے کیا اور… اور اس نیت سے کیا کہ… کہ کیا پتہ دشمن کی انسانیت جاگ جائے … اس کے اندر جو انسان مر گیا ہے … وہ اٹھ کھڑا ہو جائے اور… اور اپنی قیادت کو یہ احساس دلائے کہ… کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے اور… اور بھارت اس کے ساتھ کیا سلوک کررہا ہے… اور اس لئے کررہا ہے کیونکہ ہم ہم ہیں ‘ وہ وہ ہیں… ان میں اور ہم میں فرق ہے… فرق ہی فرق۔ ہے




