منگل کو لگاتار تیسرے دن جموں صوبے میں معتدل سے شدید بارش ہوئی جس سے جموں ضلع میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ تقریبا ًتمام دریا اور نہریں خطرے کے نشان سے اوپر یا اس کے قریب بہہ رہی ہیں ، جس سے شہر اور دیگر مقامات کے متعدد نشیبی علاقے اور سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں۔
وزیر اعلی عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ جموں کے مختلف حصوں میں شدید بارش کے بعد صورتحال کافی سنگین ہے اور انہوں نے انتظامیہ کو ہائی الرٹ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
جموں شہر میں توی تیزی سے خطرے کے نشان کے قریب پہنچ رہی ہے۔ کٹھوعہ ضلع میں ، دریائے راوی کئی جگہوں پر اپنے کناروں سے بہہ گیا ہے ، جس کے نتیجے میں آس پاس کے دیہات اور ملحقہ علاقوں سمیت نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔ان علاقوں کے رہائشیوں کو خبردار رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
کٹھوعہ ضلع میں دریائے اجھ کی پانی کی سطح بھی خطرے کے نشان کے قریب پہنچ رہی ہے ، جبکہ سانبہ ضلع میں دریائے بسنتار خطرے کے نشان کو عبور کر چکا ہے۔ صبح کے وقت اج دریا پنجتیرتھی میں خطرے کے نشان کے قریب بہہ رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع میں دریائے ترانہ ، دریائے اجھ ، مگگر کھڈ ، سہر کھڈ ، راوی اور ان کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح بیک وقت بڑھ رہی ہے اور خطرے کے نشان کے قریب پہنچ رہی ہے ، جس سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔
ضلع کشتوار میں پدر روڈ کا کچھ حصہ ٹریتھ نالے کے قریب بہہ گیا ہے۔ وادی کو ضلع کشتوار سے جوڑنے والے سنتھن ٹاپ پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ڈوڈہ ضلع کے علاقے بھدرواہ کے نیرو نالے میں بھی اچانک سیلاب آیا ہے۔ان تمام متاثرہ اضلاع میں ، مختلف محکمے ہائی الرٹ پر ہیں ، اور متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی مشقیں شروع کر دی گئی ہیں۔
جموںشہر کے نچلے علاقے مثلاً گجر نگر، جانی پور اور باہو فورٹ کے قریب محلے پانی میں ڈوب گئے۔ پرانی نکاسی آب کی نالیاں بند ہونے کی وجہ سے سڑکیں ندی نالوں میں بدل گئیں۔ اسکول بند کرنا پڑے اور بجلی کئی گھنٹے غائب رہی۔ کٹھوعہ اور سانبہ کے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بارشوں سے کھڑی دھان (پدی) اور مکئی کی فصل برباد ہوگئی۔ کئی ایکڑ زمین میں پانی کھڑا ہوگیا جس سے بیج سڑنے لگے۔
جموںکشمیر کا خطہ ہمیشہ سے مون سون کی بارشوں اور مغربی ہواؤں (ویسٹرن ڈسٹربنسز) سے متاثر رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں بارشوں کا انداز بدلا ہے۔ اس سال جموں ڈویڑن میں مسلسل اور طویل بارشوں نے نہ صرف زندگی کو مفلوج کیا بلکہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے لاکھوں لوگوں کے لئے سیلاب کا شدید خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
جہاں یہ بارشیں کھیتوں کے لئے پانی کا ذریعہ ہیں، وہیں ان کی شدت اور تسلسل نے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ دریا چناب اور دریا توی میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہنے لگا، پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈ) کے متعدد واقعات سامنے آئے، اور جموں شہر سمیت کئی قصبوں میں شہری سیلاب نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق رواں مانسون میں جموں ڈویڑن میں بارش کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے کہیں زیادہ رہی۔ خاص طور پر ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن، ریاسی، پونچھ اور ادھم پور اضلاع میں ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئیں۔
دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرے کے نشان کو عبور کر گئی۔ ضلع ڈوڈہ اور کشتواڑ میں کئی دیہات کو خالی کرانا پڑا۔دریائے توی جموں شہر سے گزرنے والا مرکزی دریا ہے۔ بارشوں کے دوران اس کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور توی پل کے نیچے بہاؤ تیز ہوگیا، جس سے نچلے علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔
یہ مسلسل بارشیں نہ صرف دریاؤں کو بھر رہی ہیں بلکہ زمین کی نمی بڑھنے سے پہاڑی ڈھلوانیں بھی غیر مستحکم ہوگئی ہیں، نتیجتاً لینڈ سلائیڈز نے شاہراہوں کو بار بار بند کیا۔
ڈوڈہ اور کشتواڑ دونوں اضلاع سب سے زیادہ خطرے میں رہے کیونکہ چناب اور اس کے معاون ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ کئی گنا بڑھ گیا۔ متعدد مقامات پر زمین کھسکنے سے گاؤں کے کچے مکانات زمین بوس ہوگئے۔ کچھ مویشی بھی پانی میں بہہ گئے۔
جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ٹریفک گھنٹوں معطل رہا۔ خاص طور پر بانہال اور رام سو کے درمیان چٹانیں کھسکنے سے شاہراہ کئی دن بند رہی۔ اس سے خوراک اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی۔
مسلسل بارشوں نے جموں کے پہاڑی اضلاع کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ رام بن، ڈوڈہ، ریاسی اور کشتواڑ میں بار بار لینڈ سلائیڈز ہوئیں۔ سڑکوں کے کنارے ڈھلوانوں پر کٹائی کے دوران نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی سیدھا سڑکوں پر آیا اور چٹانیں نیچے آگریں۔ اس سے کئی مقامات پر حادثات بھی ہوئے جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
جموں میں ہونے والی مسلسل بارشیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ یہ خطہ شدید ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہے۔ دریائے چناب اور توی بارش کے ساتھ ساتھ خطرناک سیلابی صورتحال پیدا کرتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈز زندگی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔
یہ صورتحال صرف قدرتی نہیں بلکہ انسانی غلطیوں کا بھی نتیجہ ہے۔ جنگلات کی کٹائی، دریاؤں پر تجاوزات، غیر منصوبہ بند شہری ترقی اور ناقص انفراسٹرکچر نے بارش کو آفت میں بدل دیا ہے۔
اگر حکومت، عوام اور ماہرین مل کر مربوط حکمتِ عملی اپنائیں تو بارش کو نعمت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بصورتِ دیگر یہ رحمت بار بار زحمت میں بدلتی رہے گی۔ جموں کے عوام کو اب پائیدار اور محفوظ ترقی کے راستے پر قدم بڑھانا ہوگا۔




