جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے امریکہ کے بجائے جاپان کا انتخاب کیا ہے۔
اس اقدام کو روایت سے ہٹ کردیکھا جارہا ہے اور یہ سیول کے ذریعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت سے قبل اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے ارادے کا اشارہ ہے۔
لی، جو کبھی تاریخی مسائل پر جاپان کے سخت ناقد تھے، اب سربراہِ مملکت کے طور پر اپنا موقف تبدیل کر رہے ہیں اور ہائیڈروجن توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں ٹوکیو کے ساتھ تعاون کی مانگ کررہے ہیں،
نیز ٹیرف اور دفاعی بوجھ کی تقسیم پر امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط پوزیشنز تلاش کر رہے ہیں۔
اس بیان بازی کے باوجود، تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ گہرے تاریخی تنازعات مستحکم دو طرفہ تعلقات کے لئے ایک طویل مدتی رکاوٹ بنے رہیں گے۔








