وزیر خارجہ جے شنکر نے ایک بارپھر واضح کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں رہی۔
نئی دہلی میں اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کی ہے۔
آپریشن سندور پر بات کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ اس تنازع کے دوران فون کالز امریکہ کی طرف سے کی گئی تھیں اور اسی طرح دوسرے ممالک نے بھی کالز کی تھیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ اس دوران جو بھی امریکہ فون کالز کی گئیں ان کا ریکارڈ میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایکس پر موجود ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا ’تاہم اس پر ثالثی کا دعویٰ کرنا یا اس بات پر زور دینا درست نہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بات چیت بے نتیجہ تھی۔ یہ واضح ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی تیسرے فریق نے ثالثی نہیں کی بلکہ جنگ بندی کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انھوں نے انڈیا پاکستان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ماحول کشیدہ ہو تو یہ فطری بات ہے کہ ممالک ایک دوسرے سے رابطہ کریں۔ ایس جے شنکر نے کہا کہ جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع چل رہا تھا تو میں نے انھیں بھی فون کیا تھا۔ جنگ کے دور میں تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ دوسرے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘
اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز ہے کہ جو لوگ تجارت کی حمایت کرنے والی امریکی انتظامیہ کے لیے کام کرتے ہیں وہ دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے بعد وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر تنقید کی ہے۔
پیٹر ناروا نے کہا تھا کہ انڈیا روسی تیل سے نہ صرف اپنے لیے منافع کما رہا ہے بلکہ یوکرین کی جنگ میں روس کو بالواسطہ طور پر مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر آپ کو انڈیا سے تیل یا ریفائنڈ مصنوعات خریدنے میں کوئی مسئلہ ہے تو نہ خریدیں، ایسا کرنے کے لیے کوئی آپ کو مجبور نہیں کر رہا ہے، اگر آپ کو یہ پسند نہیں ہے تو مت خریدیں‘۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات پر گفتگو کے دوران جے شنکر نے کہا کہ امریکہ سے بات چیت جاری ہے ۔ اس پر سوال پوچھا گیا کہ اب جب امریکہ سے تجارتی مذاکرات کے لیے آنے والا وفد نہیں آ رہا ہے ، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ تعلقات میں رکاوٹ آ گئی ہے ؟ اس پر وزیرِ خارجہ نے کہا’کوئی کُٹّی تھوڑی ہی ہوئی ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ وفد کادورہ مؤخر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری گفتگو رک گئی ہے ۔
جے شنکر نے کہا کہ تجارت کے شعبے میں موجودہ مسائل کے باوجود دیگر شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون برقرار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے معاملے میں ہمارے کسان ‘لکشمن ریکھاہیں۔ اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اپنے کسانوں اور حساس شعبوں کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
جے شنکر سے جب پچھلے ڈھائی دہائی میں امریکہ کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ صدر بل کلنٹن کا ہندوستان دورہ ، صدر جارج ڈبلیو بش کے وقت امریکہ کے ساتھ نیوکلئیر ڈیل اور وزیراعظم نریندر مودی کی۲۰۱۴کا امریکہ دورہ ، یہ سب تعلقات کو مضبوط بنانے کی بڑی اہم کڑیاں رہی ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس دوران پاکستان اور چین کے تعلق سے امریکہ کی جی۲پالیسی جیسے کچھ مسائل ضرور آئے لیکن مجموعی طور پر تعلقات میں مثبت پیش رفت جاری رہی۔ وقت کے ساتھ ثابت ہوا کہ باتیں بہتر ہی ہوئی ہیں۔
جے شنکر نے کہا’ہم بڑے ملک ہیں، ہمارے بہت سے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں، بالآخر مسائل کا حل ہی اہمیت رکھتا ہے ‘۔
جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ ہندوستان جیسے ایک اسٹریٹجک شراکت دار پر قومی سلامتی کے بہانے ڈیوٹی عائد کر رہا ہے ؟ اس پر وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی کا اعلان تو دور، امریکہ نے پہلے کبھی عوامی بیانات کے ذریعے خارجہ پالیسی نہیں چلائی۔ مسٹر ٹرمپ اپنے ملک اور دنیا کے ساتھ جس انداز میں برتاؤ کر رہے ہیں وہ بالکل مختلف ہے ۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت تین اہم مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ دو طرفہ تجارت کا ہے ، جس میں ہندوستان نے واضح طورپر کہا ہے کہ ہماری ایک ‘لکشمن ریکھا’ ہے اور ہم اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ دوسرا مسئلہ تیل کی خریداری کے ذریعے روس کی فوجی مشینری کی مالی اعانت کے الزام کا ہے ، حالانکہ روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہندوستان نہیں بلکہ چین ہے ۔ روس سے سب سے زیادہ ایل این جی توانائی کی درآمد یورپی یونین کر رہی ہے ۔ یورپی یونین کا روس کے ساتھ تجارتی حجم، روس۔ہندوستان کے تجارت سے کہیں زیادہ ہے ۔
روسی خام تیل خرید کر منافع کمانے پر امریکی حکام کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا’آپ کو (امریکہ اور یورپی یونین کو) تکلیف ہے تو آپ مت خریدیے ‘۔انہوں نے امریکی حکام پر طنز کرتے ہوئے کہا’یہ مضحکہ خیز ہے کہ جو لوگ ایک تجارت۔حامی امریکی حکومت کے لیے کام کر رہے ہیں، وہ دوسروں پر تجارت کرنے کا الزام لگا رہے ہیں‘










