وزیر برائے زراعت، دیہی ترقی اور پنچایتی راج جاوید احمد ڈار کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ستمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے ۔
ڈار نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں اصلاحی اقدام کئے جا رہے ہیں۔
وزیرنے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
دار نے کہا’’اسمبلی سیشن ستمبر کے مہینے میں ہونا والا ہے ، ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کی گئی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ستمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں اسمبلی سیشن لازمی ہے ‘‘۔
ایگریکلچر شعبے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا’’اس سیکٹر میں اصلاحی اقدام کئے جار ہے ہیں، زراعت سے وابستہ لوگوں کی معیشت کو مستحکم بنانا ہماری ترجیح ہے اور اس کے ان کو اچھے اور مختلف قسموں کے فصل فراہم کئے جا رہے ہیں‘‘۔
پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے تین بلوں کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر نے کہا’’یہ تین بل پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دئے گئے ہیں، اب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ان کا جائزہ لے گی اور فیصلہ آنے کے بعد ہی اس پر بات کی جاسکتی ہے ‘‘۔
ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا’’ہر پارٹی کا ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اپنا موقف ہے ،جہاں تک نیشنل کانفرنس کا تعلق ہے تو ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ ہمارا حق ہے جس کو ہم سے چھین لیا گیا ہے ‘‘۔
ڈار کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے جو ایک لاکھ نوکریوں کی بات کی ہے ،اس کے لئے سکل اور دوسرے وسائل پیدا کرکے روز گار کے مواقع فراہم کئے جار ہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ محکمہ جل شکتی صاف پانی کی فراہمی کیلئے پر عزم ہے اور اسکیموں کو عمل جامہ پہنایا جا رہا ہے اور جن علاقوں میں ابھی یہ سہولیت نہیں ہے تو ان کو جل جیون مشن دوم میں اس کو یقینی بنایا جائے گا







