بدھ کے روز لوک سبھا میں حزب اختلاف کے شور و غل کے دوران ’آن لائن گیمنگ کے فروغ اورانضباط سے متعلق بل۲۰۲۵‘ کوصوتی ووٹ کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تیزی سے ترقی کی ہے ، جس سے تعلیم اور کھیل کے میدان میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور لوگوں کی سیکھنے کی رفتار بڑھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ای،اسپورٹس اور آن لائن سوشل گیمز کو فروغ دیتا ہے اور نقصان دہ آن لائن منی گیمز، ان کے اشتہارات اور مالی لین دین پر پابندی عائد کرتا ہے ۔
ویشنو نے کہا کہ دنیا بھر میں ای اسپورٹس کو نئے طریقے سے فروغ مل رہا ہے ۔ آن لائن سوشل گیمز فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن آن لائن منی گیمز سے لوگوں کو مالی نقصان ہو رہا ہے اور بعض صورتوں میں دھوکہ دہی بھی ہو رہی ہے ۔ کچھ لوگوں نے ان گیمز کی لت کی وجہ سے خودکشی بھی کی ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ کرناٹک میں حال ہی میں کچھ افراد نے آن لائن گیم میں نقصان کے بعد خودکشی کرلی۔ عالمی صحت تنظیم نے بھی آن لائن گیمز سے متعلق خبردار کیا ہے ۔ویشنو نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کے مفاد میں اس بل کو اتفاق رائے منظوری دیں۔
اسی دوران، اپوزیشن ارکان بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرثانی عمل کو روکنے اور انتخابات میں بے ضابطگیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔شور شرابے کے دوران اس بل کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
اس کے بعد اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی جمعرات صبح ۱۱بجے تک کے لیے ملتوی کر دی








