بدھ کا دن اینٹی کورپشن بیورو(اے سی بی) کیلئے بڑا مصروف رہا ۔ایک سابق آئی اے ایس افسرکو بدعنوانی کے الزام میں ایک سال قید کی سزا ہو ئی جبکہ محکمہ سیاحت میں مالی بدعنوانی کا ایک کیس سامنے آگیا ۔
اس کے علاوہ بیورو نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ۱۱ ملازمین کیخلاف ایک عاملے میں چارج شیٹ بھی دائر کردی ۔جبکہ آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا ایک کیس بھی درج کیا گیا ۔
ایڈیشنل اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ سری نگر نے سابق آئی اے ایس حبیب الحسن بیگ نامی ایک ملزم کو مجرم قرار دیا ۔ عدالت نے بیگ کوایک سال کی قید کی سزا اور ۱۵ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
ایڈیشنل اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ سری نگر‘ فیضان الحق اقبال نے اپنے فیصلے میں بیگ ‘جواُس وقت اسپیشل ٹریبونل جموں کشمیر حکومت کے ممبر تھے کو مجرم قرار دیا ہے۔
اے سی بی سرینگر میں ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم نے اپنی ملازمت کے دوران متحرک/غیر منقولہ اثاثوں کی شکل میں بہت زیادہ جائیداد جمع کی ہے۔
پولیس اسٹیشن وی او کے (اب اے سی بی) سرینگر کے ذریعے کی گئی تحقیقات کے دوران ملزم (سابق آئی اے ایس افسر حبیب الحسن) کے خلاف الزامات زبانی اور دستاویزی شواہد کے ساتھ کسی شک سے بالاتر ثابت ہوئے جو ریکارڈ پر تھے۔
مقدمے کی چارج شیٹ۱۳نومبر۲۰۰۰ کوعدالت برائے انسداد بدعنوانی سری نگر کے سامنے عدالتی تعین کے لیے پیش کی تھی۔
ادھر اے سی بی نے محکمہ سیاحت کشمیر میں بڑے مالیاتی گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے بدعنوانی اور سرکاری فنڈز کے خرد برد کے معاملے میں ایک مقدمہ درج کیا ہے ۔
یہ معاملہ محکمہ کے اکاؤنٹس سیکشن میں حساس سرکاری سافٹ ویئر ’جے اینڈ کے پے سس‘کے ساتھ کی گئی ہیرا پھیری سے متعلق ہے ۔
اینٹی کرپشن بیورو کے مطابق، اے سی بی کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی جس پر ابتدائی انکوائری کے دوران یہ سامنے آیا کہ اکاؤنٹس سیکشن میں تعینات دو اہلکار، جاوید احمد بٹ (جونیئر اسسٹنٹ، اُس وقت انچارج بل کلرک) اور توصیف دلشاد زرگر (ایم ٹی ایس‘ اُس وقت اسسٹنٹ ٹو بل کلرک) نے باہمی سازباز کے تحت سرکاری سافٹ ویئر میں جعلسازی کی۔
بیورو کے مطابق دونوں نے واجب الادا اداروں کے بینک اکاؤنٹ نمبروں کو اپنی یا اپنے قریبی رشتہ داروں کے کھاتوں سے تبدیل کیا اور سرکاری رقوم کو غیر قانونی طور پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرلیا۔
اے سی بی کے مطابق، اس جعلسازی کے نتیجے میں لاکھوں روپے سرکاری خزانے سے خورد برد کیے گئے ۔
تحقیقات نے یہ بھی ثابت کیا کہ دونوں اہلکاروں نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک منظم سازش کے تحت ذاتی مالی فائدہ حاصل کیا اور سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔
اینٹی کرپشن بیورو نے بتایا کہ اسی سلسلے میں ایف آئی آر نمبر۲۰۲۵/۱۶درج کیا گیا ہے جس میں دونوں مذکورہ ملازمین اور دیگر مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔
ملزمان کی شناخت جاوید احمد بٹ، جونیئر اسسٹنٹ (اُس وقت انچارج بل کلرک)، ساکن شیخ محلہ، برین نشاط، سرینگراور توصیف دلشاد زرگر، ایم ٹی ایس (اُس وقت اسسٹنٹ ٹو بل کلرک)، ساکن چودھری گنڈ، شوپیاں کے بطور ہوئی ہے ۔
اینٹی کرپشن بیورو نے بتایا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس مالیاتی گھوٹالے میں اور کون کون شامل تھا۔
دریں اثنا اے سی بی نے بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کے ایک سنگین معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے۱۴ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کی ہے ، جن میں سرینگر میونسپل کارپویشن کے ۱۱؍اہلکار،محکمہ مال کا ایک افسر اور دو نجی افراد شامل ہیں۔
یہ چارج شیٹ ایف آئی آر نمبر۲۰۱۹/۰۴کے تحت درج مقدمے میں بدھ کو خصوصی اینٹی کرپشن جج سرینگر کی عدالت میں داخل کی گئی۔ ملزمان پر جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے ۔
تحقیقات کے مطابق سرینگر میونسپل کارپویشن کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ریونیو حکام کے ساتھ ملی بھگت کر کے قمر واری، برتھنہ علاقے (خسرہ نمبر۹۰) میں سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی۔ حیران کن طور پر یہ بلڈنگ پرمشن غلام قادر صوفی کے نام پر جاری کی گئی جو ۲۰۰۸میں انتقال کر چکے تھے ، تاہم اس پرمشن کا ناجائز استعمال ان کے بیٹے محمد عارف صوفی نے کیا۔
محمد عارف نے نہ صرف منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمرشل بلڈنگ تعمیر کی بلکہ جعلی ریونیو ریکارڈ تیار کر کے آس پاس کی سرکاری زمین پر بھی قبضہ جمایا۔ اس پورے عمل میں متعلقہ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت اور پشت پناہی ثابت ہوئی۔
اے سی بی کی جانب سے کی گئی جامع تحقیقات میں زبانی اور دستاویزی شواہد نے یہ بات واضح کر دی کہ ملزمان نے جان بوجھ کر سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غیر قانونی طور پر نجی فائدہ پہنچایا۔ بیورو نے حکومت سے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی منظوری حاصل کرنے کے بعد چارج شیٹ عدالت کے روبرو پیش کی۔
خصوصی اینٹی کرپشن جج سرینگر کی عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت۷؍اکتوبر۲۰۲۵کو مقرر کی ہے ۔
اس دوران بیورو نے محکمہ انمل ہسبنڈری کے ملازم ممتاز احمد ڈار کے خلاف اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے غیر متناسب بھاری منقولہ/غیر منقولہ اثاثے جمع کرنے کے الزام میں غیر متناسب اثاثے (ڈی اے) کا مقدمہ درج کیا۔
یہ مقدمہ ان الزامات کی تصدیق کے بعد درج کیا گیا تھا کہ مذکورہ ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ دولت جمع کی تھی۔ تصدیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مشتبہ شخص کے پاس کروڑوں روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ہیں جن میں شامل ہیں۔
بیورو کے مطابق گاسوبٹہ پورہ ‘ حضرت بل ، سری نگر میں دو محل نما مکانات۔ مین مارکیٹ ، گاسو بٹہ پورہ میں ایک تین منزلہ دکان ‘ زمین کا بڑا حصہ گاسو بٹہ پورہ اور ہدورہ کے ملحقہ علاقوں میں واقع ہے۔اس کے علاوہ اس کے پاس ایک پرتعیش گاڑی بھی ہے ۔
اے سی بی کے مطابق مشتبہ شخص کے حاصل کردہ ، رکھے ہوئے اثاثوں اور اخراجات کی قیمت اس کی آمدنی کے معلوم ذرائع سے غیر متناسب پائی گئی ہے۔ اس کے مطابق ، کیس ایف آئی آر نمبر۱۵/۲۰۲۵کو پولیس اے سی بی سری نگر میں سیکشن ۱۳ (۱) (بی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے قانون ۱۹۸۸ کی دفعہ ۱۳ (۲) کے ساتھ پڑھا گیا ہے (جیسا کہ ۲۰۱۸میں ترمیم کی گئی ہے)
مقدمہ درج ہونے کے بعد ، مجاز معزز عدالت سے مناسب سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں ملزم کے تین رہائشی احاطوں میں تلاشی لی جا رہی ہے۔










