لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، تولہ مولہ کیمپس گاندربل میں نئے تعمیر شدہ انتظامی بلاک اور ایمفی تھیٹر کا اِفتتاح کیا۔
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اگلے دو دہائیوں میں نمایاں ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اِس سمت میںماہرینِ تعلیم اور طلباکا کردار نہایت اہم ہے تاکہ۔ان کاکہنا تھا’’ وِکست بھارت@ ۲۰۴۷۷ ‘‘کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔‘‘
سنہا نے کہا’’ہماری ترقی کا ماڈل اِنسانی وسائل کی تخلیق پر مبنی ہونا چاہیے جو اِقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے طلباء میں سیکھنے کا ایک دِلچسپ ماحول فراہم کرنے ، تخلیقی سوچ، زِندگی کی مہارتوں کو فروغ دینے ،مسائل کے حل اور اِختراع کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
سنہا نے کہا’’ہمیں ’’سب چلتا ہے‘‘ والے رویے سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اورہندوستان کو علمی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پرانے نصاب میں اِنقلابی تبدیلیاں لانی ہوں گی ۔ ہماری اوّلین ترجیح اِنسانی سرمایہ، اِختراع اور تحقیق میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنرسِنہانے بین الشعبہ جاتی کورسز پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ کورسز نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں، اِختراعات، سوچ اور مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ طلبا کو ان کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
ایل جی نے مزید کہا،’’یونیورسٹی ترقی کا محور ہے اور طلبا اس کے گرد گھومنے والے عناصر ہیں۔ انسانی ترقی کوئی مشینی عمل نہیں بلکہ اس کیلئے بہتر یونیورسٹیاں، قابل اَساتذہ اور ایک مؤثر تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے۔‘‘
سنہا نے موجودہ دور میں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور ترقی کے پیش نظر ایسے انسانی وسائل کی ضرورت پر زور دیا جو غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوں ۔اُن کے پاس زِندگی بھر سیکھنے کی مہارت اور رِی ۔سکلنگ اور اَپ ۔سکلنگ کیلئے وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
اِس موقعہ پر سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں حال ہی میں تعینات اساتذہ کیلئے سات روزہ تعارفی پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا۔
اس سے قبل اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر اے رویندر ناتھ نے یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے اس کے سفر کا خاکہ پیش کیا ، جس میں عارضی کیمپس سے کام کرنے کے چیلنجوں اور مستقل گھر حاصل کرنے کی طرف حالیہ مثبت پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
وائس چانسلر نے اس پیش رفت کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کی حمایت اور حوصلہ افزائی کا سہرا دیتے ہوئے کہا’’اس خبر کے ساتھ ایک اہم سنگ میل کا اعلان کیا گیا کہ یونیورسٹی کی نئی عمارت کی تجویز کو پبلک انویسٹمنٹ بورڈ ، محکمہ اخراجات اور وزارت خزانہ کے سامنے حتمی پیشکش مل گئی ہے۔ یہ آخری مرحلے میں ہے ‘‘۔
پروفیسر ناتھ نے کسی بھی ادارے کیلئے ضروری تین ستونوں پر زور دیا: بنیادی ڈھانچہ ، معیاری فیکلٹی اور پرکشش پروگرام۔ان کاکہنا تھا’’بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں ، ایک اہم زیر التواء مسئلہ قومی شاہراہ تک ۷۰۰ میٹر تک رسائی والی سڑک کی تعمیر ہے ، جس کے لیے تقریباً۲ ایکڑ نجی زمین کے حصول کی ضرورت ہے۔ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) ضلعی انتظامیہ کے ذریعے پیش کی گئی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کو اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کریں‘‘۔
مزید برآں ، وائس چانسلر نے پانی اور بجلی کے مستقل کنکشن کی فوری فراہمی کیلئے مداخلت کی درخواست کی ، جس کی ادائیگی یو ٹی حکومت کے پاس زیر التوا ہے۔
اِس تقریب میں وائس چانسلر سینٹر ل یونیورسٹی آف کشمیر پروفیسر اے رویندر ناتھ، ڈی آئی جی سیںٹرل کشمیر رینج راجیور پانڈے، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل جتن کشور، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اَساتذہ، سٹاف اور طلبا نے شرکت کی










