جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے بادل پھٹنے سے متاثرہ گاؤں چاشوتی میں منگل کو چھٹے روز بھی لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی باز آباد کاری کیلئے بچاؤ اور امدادی آپریشن وسیع پیمانے پر جاری ہے ۔
حکام نے بتایا کہ فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور مقامی انتظامیہ تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر بچائو اور امدادی آپریشن میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں کئی مقامات پر کام کر رہی ہیں اور بادل پھٹنے کی جگہ کے قریب بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خصوصی آل ٹیرین گاڑیاں (اے ٹی وی) ان مقامات تک رسائی کے لیے تعینات کی گئی ہیں جہاں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خیال ہے ۔
حکام نے کہا کہ علاقے میں گشت کرنا مشکل ہے ، اور اے ٹی ویز کا استعمال ایسے مقامات پر آپریشن کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جہاں پر باقاعدہ ریسکیو آلات نہیں پہنچ سکتے ہیں۔
ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کرنے کے لیے فوج اور ریسکیو ٹیمیں نے دھماکہ خیز مواد استعمال کر رہی ہیں تاکہ ملبے میں حائل بڑے پتھروں کو ہٹا دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن میں ڈاگ اسکاڈ اور ارتھ رموورز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔فوج نے ریکارڈ وقت میں چسوتی نالہ پر ایک بیلی پل تعمیر کیا ہے جس سے اہم رابطہ بحال ہوا ہے ۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے اس کارنامے پر فوج کی مثالی ہمت و لگن کو سلام کرتے ہوئے ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’فوج نے ریکارڈ وقت میں بادل پھٹنے کی جگہ کے قریب چسوتی نالہ پر ایک بیلی پل تعمیر کیا ہے جس سے اہم رابطہ بحال ہوا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا’’میں فوج کی بے مثال ہمت، عزم اور قوم کی خدمت کو سلام پیش کرتا ہوں‘‘۔
واضح رہے کہ کشتواڑ کے اس دورافتادہ اور ماچیل مندر کی طرف جانے والے آخری موٹر یبل گاؤں چسوتی میں۱۴؍اگست کی دوپہر کو بادل پھٹنے اور اس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ہولناک تباہی مچا دی تھی۔
اس قدرتی آفت میں اب تک مہلوکین کی تعداد ۶۷تک پہنچ گئی ہے اور ۱۶۷؍افراد کو زندہ بچایا گیا ہے جبکہ تازہ فہرست کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد گھٹ کر۴۰رہ گئی ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے آٹھ دنوں تک دس سینیئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو دو دو دن کیلئے چاشوتی میں تعینات کیا جائے گا تاکہ ریسکیو اور ریلیف کاموں کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے ۔ اس ضمن میں حکومت نے باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے








