یومِ آزادی کے پیش نظر جموں و کشمیر میں سکیورٹی کو غیر معمولی حد تک سخت کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق، جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر جدید ترین ‘وال ریڈار’ اور تھرمل اسکریننگ آلات نصب کر دیے گئے ہیں، جن کے ذریعے گاڑیوں اور مسافروں کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجیز کا مقصد کسی بھی مشکوک سرگرمی یا خطرے کو بروقت شناخت کر کے کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وادی کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ اہم شاہراہوں، پلوں اور بس اسٹینڈز پر بھی سخت ناکے قائم کر دیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ فورسز اہلکار جامہ تلاشی لے رہے ہیں، دو پہیہ گاڑیوں کی خصوصی طور پر باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے اور شناختی کارڈ کی تصدیق کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، کئی مقامات پر فورسز نے راہگیروں کو بھی چیکنگ کے عمل سے گزارا، جبکہ مشکوک سامان کی فوری تلاشی لی جا رہی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم کسی بھی خطرے کو معمولی نہیں سمجھ رہے ، فورسز دن رات الرٹ ہیں اور نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
حساس علاقوں میں سی سی ٹی وی نگرانی کے ساتھ ساتھ ڈرونز بھی فضائی نگرانی پر مامور ہیں۔ تھرمل امیجنگ آلات سے رات کے اوقات میں بھی مشکوک نقل و حرکت کو پہچاننے کا کام کیا جا رہا ہے ، تاکہ دشمن کی کسی بھی ناپاک کوشش کو شروع میں ہی ناکام بنایا جا سکے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، ماضی میں یومِ آزادی کے موقع پر دشمن عناصر کی طرف سے تخریبی سرگرمیوں کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اسی لیے اس سال ایک کثیر سطحی حفاظتی منصوبہ اپنایا گیا ہے ، جس میں بری، فضائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی شامل ہے۔
اس دوران یومِ آزادی کے پیش نظر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حفاظتی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ہائی ٹیک اسلحہ، جدید مانیٹرنگ سسٹمز اور جدید ڈرونز کی مدد سے دن رات گشت کو مزید تیز کر دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار سے کسی بھی دراندازی یا تخریب کاری کی کوشش کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
سکیورٹی حکام نے بتایا کہ‘ترنیتر’ڈرونز طویل فاصلے سے دشمن کی نقل و حرکت کو پکڑنے اور فورسز کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ڈرونز کے ذریعے مشکل جغرافیائی علاقوں، گھنے جنگلات اور پہاڑی درّوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایل او سی کے حساس سیکٹرز میں نہ صرف اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں بلکہ رات کے وقت بھی نائٹ وڑن ڈیوائسز، ہیٹ سنسرز اور سرویلنس راڈارز کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق، ماضی میں یومِ آزادی سے قبل دشمن کی طرف سے اشتعال انگیزی اور دراندازی کی کوششوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، اسی لیے اس برس سیکیورٹی فورسز نے پیشگی اور جارحانہ حکمت عملی اختیار کی ہے









