(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر//
وزارت خارجہ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ نیوکلیئر بلیک میل نہیں ہو گا۔‘
گذشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکہ کے دورے پر موجود فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا تھا کہ انڈیا ’اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے۔ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
اس پر پیر کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہماری توجہ ان بیانات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے جو اطلاعات کے مطابق پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف نے امریکہ کے دورے کے دوران دیے۔‘
اس کا الزام تھا کہ ’ایٹمی دھمکی‘ پاکستان کا معمول بن چکا ہے۔
وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’بین الاقوامی برادری اس طرح کے بیانات میں موجود غیر ذمہ داری کے بارے میں اپنے نتائج اخذ کر سکتی ہے۔‘ وزارت خارجہ نے الزام لگایا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے بارے میں شکوک ظاہر کیے جاتے ہیں اور فوج ’دہشتگرد گروہوں کی معاونت کرتی ہے۔‘
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’یہ بھی افسوسناک ہے کہ یہ بیانات تیسرے دوست ملک کی سرزمین سے دیے گئے ہیں۔‘ان کاکہنا تھا’انڈیا پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری بلیک میل نہیں ہو گا۔ ہم اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے رہیں گے۔‘
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی کی لڑائی کے تین ماہ بعد بھی مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے اس سے متعلق بیانات کا سلسلہ جاری ہے جس میں اپنی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ادھر انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے جواب میں پاکستانی علاقوں میں کیا جانے والا ’آپریشن سندور‘ کسی روایتی مشن سے مختلف تھا۔ انھوں نے اسے ’شطرنج‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم تھا دشمن کی اگلی چال کیا ہو گی۔‘
آرمی چیف نے یہ تقریر چار اگست کو آئی آئی ٹی مدراس میں کی تھی جس کا عنوان ’آپریشن سندور: دہشتگردی کے خلاف انڈیا کی لڑائی کا نیا باب‘ تھا مگر اس کی ویڈیو گذشتہ روز انڈین فوج کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سنیچر کو انڈین فضائیہ کے ایئر چیف اے پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے مئی کی لڑائی کے دوران پاکستان کے چھ طیارے مار گرائے۔ تاہم پاکستانی وزیر دفاع نے اس کی تردید کی ہے۔
جنوبی کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان نے رفال سمیت متعدد انڈین طیارے گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر ڈرون اور میزائل حملوں کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ ۱۰ مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔










