نئی دہلی// الیکشن کمیشن نے ہفتہ کے روز بتایا کہ انتخابی نظام کو صاف ستھرا بنانے کے لیے اس نے رجسٹرڈ اور غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں (آر یو پی پی) کی فہرست سے 334 سیاسی پارٹیوں کے نام ہٹا دیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائی مکمل چھان بین کے بعد کی گئی ہے تاہم اگر ان میں سے کوئی پارٹی چاہے تو وہ 30 دنوں کے اندر کمیشن کے سامنے اپیل دائر کر سکتی ہے ۔ پریس ریلیز کے مطابق عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 29 اے کی دفعات کے مطابق اس وقت ملک میں چھ قومی، 67 ریاستی اور 2854 رجسٹرڈ اور غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں ہیں۔
عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی)، انڈین نیشنل کانگریس اور نیشنل پیپلز پارٹی قومی پارٹیوں کے بطور تسلیم شدہ ہیں۔
اصول کے مطابق اگر کوئی سیاسی پارٹی مسلسل چھ سال تک الیکشن نہیں لڑتی تو اسے رجسٹرڈ پارٹیوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے ۔ رجسٹرڈ پارٹیوں کو وقتاً فوقتاً اپنے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
کمیشن نے کہا ہے کہ مذکورہ اصول و ضوابط کی تعمیل کے ضمن میں، اس نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے جون 2025 میں 345 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ جماعتوں کی چھان بین کرنے کی ہدایت دی تھی، تحقیقات کے دوران ان جماعتوں کو نوٹس جاری کیے گئے تھے اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا تھا۔
چیف الیکٹورل افسران کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ ان میں سے 334 سیاسی پارٹیاں رجسٹریشن کی شرائط پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ باقی معاملوں کو دوبارہ تصدیق کے لیے حکام کو واپس بھیج دیا گیا ہے ۔
کمیشن نے تمام حقائق اور چیف الیکٹورل افسران کی سفارشات پر غور کرنے کے بعد رجسٹرڈ پارٹیوں کی فہرست سے 334 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کو ہٹا دیا ہے ۔ اس طرح اب فہرست میں کل 2854 آر یو پی پی میں سے 2520 رہ گئی ہیں۔
فہرست سے ہٹائی جانے والی سیاسی پارٹیاں 30 دن کے اندر کمیشن میں اپیل کر سکتے ہیں۔










