ہم… ہم کشمیری کہاں جا رہے ہیں ؟ ہم کس راستے پر چل پڑے ہیں اور ہماری منزل کیا ہے ۔ کیا ہم نے جائز ناجائز طریقے سے دو لت کمانے کو ہی اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے جو ہم اپنی روایت ‘ اپنے اقدار سے اس قدر انحراف کررہے ہیں…باغی ہو گئے ہیں ؟
حالیہ ایام میں وادی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہو ئے ہیں جنہوں نے ہمیں بہ حیثیت ایک قوم ہلاکے رکھ دیا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا ہم یا ہم میں سے کوئی واقعی میں ایسا کرسکتا ہے‘ وہ بھی محض کچھ سکوں کیلئے۔
گزشتہ ماہ ٹنگمرگ میں ایک قالین تاجر کو پکڑا گیا کیونکہ اس نے مشین سے بنے قالین کو کشمیر کی دستکاری کے طور پیش کرکے اسے ایک سیاح کو ۵۵ء۲ لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا ۔ اس تاجر ‘ جس کی لائسنس منسوخ کی گئی‘ کا مقصد لالچ میں آکر ناجائز طریقے سے روپے پیسے کمانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔
گزشتہ ہفتے زکورہ سے ۱۲۰۰ کلو گرام گلا سڑا گوشت پکڑا گیا اور اس کے بعد یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اب تک ہزاروں کلوگرام سڑا گوشت پکڑا گیا ہے ۔ پکڑجانے کے ڈر اور خوف سے اس میں ملوث تاجر رات کی تاریکیوں میں یہ گوشت اب کسی چوراہے یا کسی آب گاہ میں پھینک دیتے ہیں ۔یہ دھوکہ دہی ‘ جو یقینا ایک مجرمانہ فعل ہے‘ کا بھی مقصد ناجائز طریقوں سے دولت کمانا تھا ۔اس میں ملوث لوگوں نے اس بات کی بالکل بھی پروا نہیں کی کہ جو زہر یہ اپنے ہی لوگوں کو کھلا رہے ہیں کہیں اس سے ان کی صحت خراب تو نہیں ہو جائیگی ‘کہیں کوئی عمر بھر کیلئے ناتواں تو نہیں ہو جائیگا۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کیونکہ لالچ نے انہیں اندھا کردیا ہے ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تہہ تک جائیگی اور اس میں جو کوئی بھی ملوث ہو گا ‘ اس کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی ۔ لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی نام سامنے آیا ہے اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ جوکوئی بھی اس میں ملوث ہو گا اسے قرار واقعی سزا دی جائیگی اور اس میں حکومت یا اس کا کوئی کل پرزہ کسی مصلحت پسندی سے کام نہیں لے گا ۔
ابھی اس وقعہ کی تحقیقات جاری ہی ہے کہ یہ خبر آئے ہے کہ اننت ناگ پولیس نے بجبہاڑہ کے ایک شخص کو جعلی سونا فروخت کرنے کے الزام میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف گلے سڑے گوست کے مقاملے کی تحقیقات کا ہی نہیں ہے ۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ کشمیر کے بازاروں میں جو کچھ بھی بیچاجارہا ہے ‘ جس بھی شکل میں اسے فروخت کیا ہو جارہا ہے اور لوگ اسے خرید رہے ہیں ‘ کیااس سے لوگوں کی زندگیوں کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے ۔کیا اس کا استعمال محفوظ ہے ۔اس بات کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ آئندہ ایسی صورتحال دو باہ پیش نہ آئے ۔
حکومت سے اس بات کی توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر لوگوں کے سامنے ایک واضح نقش راہ رکھے تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے ۔ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی لوگ منجمدگوشت کا استعمال کرتے ہیں ‘ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ‘ لیکن اس گوشت کی باضابطہ سپلائی چین ہو تی ہے کہ یہ کس کا گوشت ہے‘ اسے کب بح کیا گیا ‘ اسے کہاں اور کیسے رکھا گیا اور اسے کب تک استعمال کیا جا سکتا ہے… اسی لئے وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا ہے ۔ وہاں لوگوں کو گلاسڑا گوشت کھانے کو نہیں ملتا ہے ۔
اخلاقی اقدار کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور اس کی شناخت کا ستون ہوتی ہیں۔ کشمیر، جو اپنی دلکش قدرتی خوبصورتی، قدیم ثقافتی ورثے اور گہری روحانی روایتوں کے لیے مشہور ہے، وہاں یہ اقدار محض نظریاتی باتیں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں۔
کشمیری معاشرہ صدیوں سے مختلف ذرائع سے اخلاقی رہنمائی حاصل کرتا رہا ہے۔صوفی تعلیمات، اسلامی اصول، روایتی اقدار، اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی کی تاریخ۔ یہ اقدار سچائی، نرمی، بڑوں کا احترام، غریبوں کی مدد، اور مہمان نوازی جیسے اوصاف کو فروغ دیتی ہیں، جو کشمیری ثقافت کو محبت اور انسانیت سے بھرپور بناتے ہیں۔
بالآخر، کشمیر میں اخلاقی اقدار محض اصول نہیں بلکہ ایک ایسی زنجیر ہیں جو لوگوں کو جوڑے رکھتی ہیں، روایات کو زندہ رکھتی ہیں، اور یہ یقین دلاتی ہیں کہ ترقی و خوشحالی اخلاقی اور ثقافتی روح کو قربان کیے بغیر حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی اقدار کشمیر کے امن، وقار، اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ہماری جڑیں کہاں ہیں اور کیا ہے ۔ہماری روایات اور ہمارے اقدار کیا ہے ۔ اگر ہم ان باتوں کو یاد رکھیں گے تو یقینا دو بارہ ایسے واقعات رونما نہیں ہو ں گے ۔ یقینا پھر کوئی کشمیری مشینی قالین کو اصلی کشمیر کے دستکاری کے طور پر پیش کرے گا اور نہ کوئی گلا سڑا ہوا گوشت بازاروں میں سپلائی کرے گا ۔ پھر کوئی جعلی سونے کا کار و بار کرکے لوگوں کو دھوکہ بھی نہیں دے گا ۔
’’اورانصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔‘‘(الرحمان)



