اس غلط فہمی میں آپ بالکل بھی نہ رہیے کہ کشمیری رستا‘ گوشتابا اور کباب کھانا چھوڑ دیں گے… اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو… تو آپ غلط سوچتے ہیں… آپ کچھ اور ہو سکتے ہیں ‘ لیکن کشمیری نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہاں جانتے ہیں کہ گلا سڑا گوشت پکڑا گیا… ابھی بھی پکڑا جا رہا ہے… اس سے بنے رستے‘ گوشتابے اور کبا ب بھی ضائع کئے جا رہے ہیں… اور اللہ میاں کی قسم بڑی تعداد میں کئے جا رہے ہیں … ہول سیل میں کئے جا رہے ہیں… لیکن…لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ… کہ ہم کشمیری پیچھے ہٹ جائیں گے… رستا ‘ گوشتابا اور کباب سے منہ پھیر لیں گے… انہیں کھانا چھوڑ دیں گے… ان سے قطع تعلق کریں گے… ایسا ہوگا نہیں ‘ ایسا ہونے والا نہیں ہے…کہ … کہ کشمیری ماں باپ‘ بھائی بہن اور یار دوستوں سے قطع تعلق کر سکتا ہے… ان سے رشتہ توڑ سکتا ہے… ان سے منہ پھیر سکتا ہے… لیکن ان سب سے نہیں کہ… کہ ہمارا وازہ وان سے …رستے ‘ گوشتابے اور کباب سے تعلق آج کانہیں ہے… یہ سات جنموں کا تعلق ہے… پرانا اور دیرینہ تعلق ہے… ایسا تعلق جو کبھی قطع نہیں ہو سکتا ہے… ٹوٹ نہیں سکتا ہے… یہ اٹوٹ ہے … اور اس لئے اگر ریستوراں والے‘ ہوٹل والے پریشان ہیںکہ اب کشمیری ان کا ہاں رستا‘ گوشتابا اور کباب کھانے نہیں آئیں گے تو… تو ہم انہیں یقین دلانا چاہتے ہیں… پوری قوم کشمیر کی طرف سے یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ… ایسا نہیں ہو گا… کشمیر ی آپ سے منہ نہیں پھیر لیں گے اور جلد ہی آپ کے ہاں آئیں گے… رستا ‘ گوشتابا اور کباب کھانے آئیں گے … اس بات کی ہم ضمانت دیتے ہیں… ایسا ہو گا اور آپ کو زیادہ انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا … اور اس لئے نہیں کرنا پڑے گا کہ… کہ کشمیری رستا ‘ گوشتابا اور کباب کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں… وہ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں… لیکن کشمیریوں کو زندہ رہنا ہے… اور زندہ رہنے کیلئے انہیں رستا ‘ گوشتابا اورکباب کھانا ہی کھانا اور… اور اللہ میاں کی قسم وہ انہیں کھا کر ہی دم لیں گے کہ… کہ انہی چیزوں کیلئے تو اس کے دم میں دم ہے … اگر یہ نہیں ہوں گی تو کشمیریوں کے دم میں کوئی دم نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟



