نہیں یاد ہے… بالکل بھی نہیں یاد ہے کہ پچھلی بار کب ایسا ہوا تھا… کب کشمیر میں کوئی افواہ … افواہ ہی رہی ‘وہ صحیح ثابت نہیں ہوائی… جیسا کہ اب کی بار ہوا … پیر سے ہی افواہ… افواہ کیا افواہیں تھیں کہ … کہ منگل ۵؍اگست کو جموںکشمیر کے حوالے سے کچھ بڑا ہو نے والا ہے… اور اب کی بار یہ افواہ ٹنل پار کر کے جموں تک پہنچ گئی اور وہاں بھی لوگوں نے… بڑے بڑے لوگوں نے اس افواہ پر کان دھرا اور ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہنے لگے کہ یقینا منگل کو کچھ بڑا ہو نے والا ہے… جموںکشمیر کے حوالے سے ہونے والا ہے… پارلیمنٹ میں ہونے والا ہے… ور دیکھئے کہ اللہ میاں کے فضل و کرم سے ۵؍اگست بھی ٹل گیا اور آج ۶؍اگست ہے اور… اور کچھ بھی نہیں ہوا … بالکل بھی نہیں ہوا ۔ سب کچھ کشل منگل ہے اور اس لئے ہے کیونکہ منگل کو کچھ نہیں ہوا … اور صاحب یہ بات بھی تو ہے کہ ہوتا بھی کیا کہ … کہ ہونے کیلئے اب کچھ بھی بچا نہیں ہے… جوہونا تھا …۶ سال پہلے ہوا … اس کے بعد اب مزید کیا ہو گا ‘ یہ ہم نہیں جانتے ہیں… لیکن کہتے ہیں نا کہ جتنے منہ اتنی باتیں اور… اور باتیں بہت ہو رہی تھیں… کوئی جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کی بات کررہاتھا جبکہ کہ کسی کی رائے تھی کہ جموں کو ریاست کا درجہ دیا جائیگا اور کشمیر کو یو ٹی بنائیگا… ایسی یوٹی جس میں قانون ساز اسمبلی بھی نہیں ہو گی… لداخ کی طرح… ہم حیران ہیں… اللہ میاں کی قسم حیران ہیں اور… اور اس بات کو لے کر حیران ہیں کہ لوگوں کی سوچ کتنی اونچی اڑان بھر لیتی ہے …وہ کہاں کہاں پنچ جاتی ہے… وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں … ابھی دہلی کی بھی سوچ نہیں پہنچ گئی ہو گی کہ … کہ ہمیں نہیںلگتا ہے… اور بالکل بھی نہیں لگتا ہے کہ دہلی نے کبھی ایسا سوچا ہو گا… یہ سوچا ہو گا… جو لوگ سوچ رہے ہیں اور… اور اپنی اس سوچ کو افواہ کی شکل دے کر پورے جموںکشمیر کیا ملک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ… کہ ۵؍اگست ۲۰۲۵ کو پارلیمنٹ میں کیا ہو گا… جبکہ دنیا نے دیکھا کہ ۵؍اگست ۲۰۲۵ کو پارلیمنٹ میںوہ سب کچھ ہوا جو وہاں روز ہو تا ہے… لیکن وہ نہیں ہوا … جو لوگ ہونے کی امید لگا رہے تھے یا پھر ہونے کی افواہ اڑا رہے تھے۔ ہے نا؟




