یہ ایک بچہ ہے۔ ۷۹ سال بچہ … لیکن ہے یہ بچہ ۔دوسرے بچوں جیسا بچہ ۔جو روتا ہے بھی اور رلاتا بھی ہے ۔ شور بھی کرتا ہے اور شورکراتا بھی ہے… ضد بھی کرتا ہے اور ضد پر اڑ بھی جاتا ہے …ایسی فرمائش کرتا ہے کہ سر چکرا جائے اور ایسے فیصلے بھی لیتا ہے کہ کسی دن دنیا دنیا الٹ پلٹ ہو جائے۔ لیکن ہے یہ ایک بچہ ہی۔ ہاں البتہ اس میں اور دوسرے بچوں میں ایک فرق ہے… ایک واضح فرق ہے اور… اور وہ فرق یہ ہے کہ جہاں ایک بچہ لالی پپ دیکھ کر خوش ہوجاتا ہے… وہیں یہ بچہ بھی لالی پپ دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے لیکن یہ لالی پپ دکھا کر بھی خوش ہو جاتا ہے… اسے خوشی مل جاتی ہے …بچہ کب کیا حرکت کرے‘ کب کیا بات کرے ‘یہ پیشگی میں کوئی نہیں کہہ سکتا ہے… یہ کوئی نہیں جانتا ہے … کیوں بچہ تو بچہ ٹھہرا … وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ‘ کہہ سکتا ہے… بس یہ ۷۹ سالہ بچہ بھی کچھ ایسا ہی ہے… کب کیا کرے ‘ کب کیا کہے ‘ کوئی نہیں جانتا ہے … اور جب یہ کچھ کہے وہ صحیح ہو ‘ اس کی کوئی تاریخی اعتباریت ‘ اس کا کوئی سیاق‘ کوئی سباق ہو… صاحب یہ ضروری نہیں ہے… اس کیلئے یہ ضروری نہیں ہے … یہ جو کرتا ہے اس کا کوئی منطق ہو … ایسا ہو، یہ ضروری نہیں کہ… کہ اگر اس کی باتوں کی بھی کوئی منطق ہو تو صاحب پھر ہم اس ۷۹ سالہ بوڑھے آدمی کو ۷۹ سالہ بچہ تھوڑے نا کہیں گے …اس میں بچوں والی ایک اور بات بھی ہے اور…اور وہ یہ ہے کہ یہ روٹھ جاتا ہے… بات بات پر روٹھ جاتا ہے… خفا ہو جاتا ہے … اور پھر سزا بھی دیتا ہے…اُسے سزا دیتا ہے یا سزا دینے کی کوشش کرتا ہے جواس کے روٹھنے کا سبب بن جاتا ہے… ۷۹ سالہ اس بچے نے ۲۵ فیصد ٹیرف اس لئے عاید کیا کیونکہ وہ روٹھ گیا ہے اس بات سے روٹھ گیا ہے کہ بھارت ‘روس سے تیل کیوں خرید رہا ہے… اور اب خود ہی یہ بھی کہہ رہا ہے… بچوں کی طرح سنی سنائی بات پر یقین اور اعتبار کرکے افواہ اڑا رہا ہے… یہ افواہ اڑا رہا ہے کہ بھارت نے روس سے تیل خریدنا روک دیا ہے… بند کردیا ہے۔امریکہ کا صدر‘ڈونالڈ ٹرمپ واقعی میں بچہ ہے … ۷۹ سالہ بچہ۔




