(ندائے مشرق رپورٹ )
سرینگر//
۵؍اگست۲۰۱۹ کو دفعہ ۳۷۰ کی تاریخی منسوخی کے بعد گزشتہ ۶ برسوں میں جموں کشمیر نے آئینی، سیاسی، قانونی اور ترقیاتی سطح پر ایک ہمہ گیر تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ بھارتی آئین کی خصوصی شقوں کے خاتمے نے ریاست کو مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل کر دیا، اور اب یہ علاقہ تمام بھارتی ریاستوں کے مساوی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
جموںکشمیر نے لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے حال ہی میںایک انٹرویو میں کہا کہ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموںکشمیر کا بھارت کے ساتھ مکمل انضمام ہوا ہے اوریہاںپر انڈئن اسٹیٹ نے اپنا مکمل اختیار قائم کیا ہے۔
دسمبر۲۰۲۳ میں عدالت عظمی نے جب ۳۷۰ کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی پٹیشنوں پر اپنے فیصلے میں جہاں منسوخی کوآئینی طور پر درست قرار دیا وہیں فیصلے میں جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کے تاریخی اور سیاسی سیاق و سباق کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ دفعہ ۳۷۰ کو خصوصی حالات کے تحت آئین میں شامل کیا گیا تھا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اس شق کی’عارضی حیثیت‘اس کی بالآخر منسوخی کو ممکن بناتی ہے۔
عدالت نے اس فیصلے کو عوامی مفاد اور قومی یکجہتی کے تناظر میں بھی دیکھا۔ عدالت عظمی نے مشاہدہ کیا کہ جموں کشمیر کو دیا گیا خصوصی درجہ وقت کے ساتھ سیاسی عدم استحکام، علیحدگی پسندی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ اس کے برعکس، دفعہ۳۷۰ کی منسوخی امن، استحکام اور پورے خطے میں یکساں ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف آئینی دلائل پر مبنی تھا بلکہ اسے قومی مفاد، علاقائی یکجہتی، اور دیرپا ترقی کے تناظر میں بھی ایک درست اور ناگزیر اقدام قرار دیا گیا۔
دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی نے جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ پیدا کیا ہے۔ اگرچہ امن کو برقرار رکھنا اور جامع ترقی کو یقینی بنانا اب بھی چیلنجز ہیں، لیکن سمت حوصلہ افزا ہے۔ یہ خطہ اب ایسے انضمام، سرمایہ کاری اور داخلی خودمختاری کا مشاہدہ کر رہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں دیکھنے کو نہیں ملا۔
معیشت، سیاحت، امن و قانون، بنیادی ڈھانچے اور خواتین کے حقوق کے شعبوں میں مثبت تبدیلیاں واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر اب ہندوستانی یونین کا ایک مستحکم، خوشحال اور مساوی حصہ بننے کی طرف گامزن ہے۔
دفعہ ۳۷۰ کے تحت جموں و کشمیر میں ۸۰۰سے زائد مرکزی قوانین نافذ نہیں تھے، جس سے ریاست میں کئی بنیادی حقوق محدود تھے۔ منسوخی کے بعد تمام مرکزی قوانین، بشمول تعلیم کا حق، خواتین کے تحفظ، مزدوروں کے حقوق، اور پسماندہ طبقات کے تحفظ سے متعلق قوانین، اب ریاست میں نافذ العمل ہیں۔
خواتین کو مکمل جائیداد اور شہریت کے حقوق حاصل ہو گئے ہیں، جو پہلے شادی کے بعد ختم ہو جاتے تھے اگر ان کی شادی ریاست سے باہر ہوئی ہو۔
پہلے ریاست کا اپنا آئین اور پرچم ہوا کرتا تھا، اور بھارتی پارلیمنٹ کے قوانین صرف ریاستی منظوری کے بعد لاگو ہوتے تھے لیکن ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد ملکی آئین براہِ راست مکمل طور پر نافذ ہو چکا ہے۔دوہرے آئین کا نظام ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ریاستی و مرکزی ادارے ایک ہی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔
منسوخی کے بعد پنچایت، بی ڈی سی، اور ڈی ڈی سی انتخابات نے جمہوریت کو نچلی سطح تک پہنچایا۔
دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ایک ایسی تاریخ جہاں جموں و کشمیر کو اب مکمل آئینی، سماجی، اقتصادی، اور سیاسی انضمام حاصل ہے۔ چیلنجز اپنی جگہ باقی ہیں، مگر بنیاد مضبوط ہو چکی ہے۔
اب جموں کشمیر’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ایک اہم ستون بن چکا ہے۔
چھ سال بعد، جب وزیر اعظم نریندر مودی حکومت نے دفعہ۳۷۰ کو منسوخ کیا، جموں و کشمیر میں تبدیلی صرف اعداد و شمار میں ہی نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں، امنگوں اور وقار کی بحالی میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
محرم کے جلوسوں کا پْرامن انعقاد، جو کبھی سکیورٹی خدشات کی بنا پر سختی سے محدود ہوتے تھے، اب بڑھتی ہوئی استحکام کی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح، تاریخی لال چوک میں جنم اشٹمی کی تقریبات کی دہائیوں بعد واپسی محض تہوار کی بحالی نہیں بلکہ خطے میں بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے جذبے اور ثقافتی روایات کی آزادانہ بحالی کی علامت ہے۔










