(مشرق ڈیسک)
سرینگر///
امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سے برآمد کی جانے والی اشیاء پر۲۵ فیصد ٹیکس اور اضافی ’جرمانہ‘ عائد کرنے کے حیران کن اعلان کے بعد، بھارت نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے جاری ایک محتاط اور متوازن بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے امریکی صدر کے بیان کو نوٹ کیا ہے، اور بھارت دو طرفہ منصفانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے پرعزم ہے۔ بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ماہ ہا ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا’’حکومت نے امریکہ کے صدر کے دو طرفہ تجارت سے متعلق بیان کا نوٹس لیا ہے۔ ہم اس کے مضمرات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی تجارتی معاہدے کیلئے گزشتہ چند ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔ ہم اس مقصد پر قائم ہیں‘‘۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت کسانوں، کاروباری حضرات، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی فلاح و بہبود کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔
بیان میں حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا۔
مزید کہا گیا’’حکومت، قومی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، جیسا کہ دیگر تجارتی معاہدوں میں کیا گیا ہے، بشمول حالیہ معاہدہ جو برطانیہ کے ساتھ طے پایا‘‘۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر۲۵ فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ یکم اگست سے امریکہ بھارت سے آنے والی اشیا پر ۲۵فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی ممالک پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم مذاکرات کے باعث اس پر عملدرآمد روک دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا’’انڈیا روس سے اپناذیادہ تر فوجی سازوسامان خریدتا ہے اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہر کوئی چاہتا ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت کو ختم کرے۔ دوسری جانب انڈیا چین کے ساتھ ساتھ روس سے توانائی لینے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔‘‘
آخر میں ٹرمپ نے لکھا’’یہ سب چیزیں اچھی نہیں ہیں۔ انڈیا کو جرمانے کے ساتھ ساتھ ۲۵فیصد ٹیرف ادا کرنا پڑے گا جو یکم اگست سے شروع ہوگا۔‘‘
اس دوران بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تاہم ابھی تک اس کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
اپنے پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ دوست ہیں لیکن گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان بہت کم تجارت ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ٹیرف جو لگائے ہیں وہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔
ادھر امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو بھارت کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ بھارت امریکی برآمدات کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے کے لیے کتنا تیار ہے۔
یہ مذاکرات اس وقت رکاؤٹ کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ امریکہ بھارت سے ڈیری اور زرعی شعبوں میں رعایتیں مانگ رہا ہے۔ تاہم یہ شعبے بھارت میں نہایت حساس سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ سستے امریکی زرعی مصنوعات سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جب امریکہ نے انڈونیشیا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اس پر لگنے والے ٹیرف کو ۱۹ فیصد تک کم کیا گیا، کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ صرف وقت کی بات ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا’’ہمیں بھارت تک رسائی حاصل ہونے والی ہے۔ آپ کو سمجھنا چاہیے، ہمیں ان ممالک تک بالکل بھی رسائی حاصل نہیں تھی۔ ہمارے لوگ وہاں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ اب ہم رسائی حاصل کر رہے ہیں، ٹیرف کی وجہ سے‘‘۔
ذرائع نے اس قیاس آرائی کو بھی مسترد کر دیا کہ امریکہ نے بھارت کے سامنے کوئی خاص شرائط رکھی ہیں۔










