(ویب ڈیسک)
سرینگر//
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے دوران کسی مرحلے پر بھی تجارت اور آپریشن سندور کو آپس میں جوڑنے کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی درخواست پاکستان کی جانب سے ڈی جی ایم او چینل کے ذریعے آئی تھی۔
جے شنکر نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت کی سفارتی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ اقوام متحدہ کے۱۹۰ رکن ممالک میں سے صرف تین نے ‘پاکستان کے علاوہ‘ آپریشن سندور کی مخالفت کی۔ باقی تمام ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جس ملک پر حملہ ہو، اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
لوک سبھا میں’پہلگام میں دہشت گرد حملے کے جواب میں بھارت کا مضبوط، کامیاب اور فیصلہ کن آپریشن سندور‘ پر بحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے، جے شنکر نے کہا’’پہلگام حملے کے بعد ہمیں ایک واضح، مضبوط اور پرعزم پیغام دینا ضروری تھا کیونکہ ہماری سرخ لکیریں عبور کی جا چکی تھیں اور ہمیں دنیا پر یہ واضح کرنا تھا کہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے‘‘۔
جے شنکر نے کہا کہ حکومت کی سفارتی حکمت عملی کا مقصد ایک بیانیہ تیار کرنا اور آپریشن سندور کی راہ ہموار کرنا تھا۔ان کاکہنا تھا’’اس سفارت کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ۱۹۰ میں سے صرف تین ممالک نے آپریشن کی مخالفت کی۔ اکثریتی ممالک نے دہشت گردی کو ناقابل قبول قرار دیا اور بھارت کے دفاعی اقدام کو درست تسلیم کیا‘‘۔
وزیر خارجہ نے کہا’’جب آپریشن سندور شروع ہوا تو ہمارا مقصد یہ تھا کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے۔ہماری کارروائیاں مرکوز، محدود اور غیر اشتعالی تھیں۔ ہم نے وہی کیا جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا کہ حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے گا‘‘۔
جے شنکر نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ (ٹی آور ایف) کو امریکہ نے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
جے شنکر نے مزید کہا’’۱۰ مئی کو ہمیں کچھ ممالک کی طرف سے فون کالز موصول ہوئیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ ہمارا مؤقف یہ تھا کہ اگر پاکستان واقعی تیار ہے تو یہ درخواست ڈی جی ایم او چینل کے ذریعے آنی چاہیے ‘اور یہی ہوا‘‘۔
وزیر خارجہ نے دو نکات پر زور دیا’’امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں تجارت اور آپریشن سندور کو جوڑنے کی کوئی بات نہیں ہوئی‘‘۔اور دوسرا یہ کہ ’’۲۲؍اپریل (پہلگام حملے کا دن) سے ۱۷جون (جب وزیر اعظم مودی کینیڈا میں تھے) تک ٹرمپ اور مودی کے درمیان کوئی کال نہیں ہوئی‘‘۔
جے شنکر نے بتایا کہ پہلگام حملے کے بعد حکومت نے کئی اقدامات کیے، جن میں انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنا بھی شامل تھا، جب تک کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت ترک نہ کرے۔
وزیر خارجہ نے کہا’’ہماری خارجہ پالیسی کی ذمہ داری تھی کہ ہم دنیا کو سمجھائیں کہ پہلگام حملہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، بلکہ جموں کشمیر کی معیشت کو نشانہ بنانے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی سازش تھی‘‘۔
جے شنکر نے کہا کہ بھارت کا سفارتی پیغام دو نکات پر مبنی تھا’’ایک تو یہ کہ دہشت گردی کیلئے صفر برداشت
اور دوسرا یہ کہ اپنے عوام کے دفاع کا حق‘‘۔انہوں نے کہا کہ تمام سفارتی بریفنگز انہی دو نکات کے گرد مرکوز تھیں۔
یہ بیانات اس وقت آئے جب کانگریس کے نائب لیڈر گورو گوگوئی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۲۶ بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت کے ذریعے جنگ بندی کروائی۔
کانگریس ٹرمپ کے ان دعوؤں پر بار بار حکومت پر تنقید کر رہی ہے۔
یاد رہے،۱۰ مئی کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کا سہرا انہوں نے واشنگٹن کی ثالثی کو دیا۔ اس کے بعد وہ کئی بار یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کروایا۔تاہم بھارت کا مؤقف واضح اور مستقل رہا ہے کہ جنگ بندی پر اتفاق بھارتی اور پاکستانی ڈی جی ایم اوز کے درمیان براہِ راست بات چیت کے بعد ہوا، نہ کہ کسی بیرونی ثالثی کے نتیجے میں۔
گزشتہ ماہ، ایک تقریباً۳۵ منٹ طویل فون کال میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ بھارت نہ صرف کسی ثالثی کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ کبھی کرے گا بھی نہیں۔
یاد رہے، بھارت نے۷مئی کو آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے ڈھانچے پر کارروائی کی تھی، جو پہلگام حملے میں۲۶ شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی۔بعد ازاں۱۰ مئی کو بھارت اور پاکستان نے چار دن کے شدید ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا۔










