(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر//
مرکز نے پیر کے روز کہا کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد جموں کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم ابھی تک اس واقعے کے سیاحت پر انحصار کرنے والوںپر اقتصادی اثرات کا کوئی باقاعدہ جائزہ نہیں لیا گیا۔
لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ جموں کشمیر میں سیاحوں سے متعلق اعداد و شمار ریاستی محکمہ سیاحت فراہم کرتا ہے اور وزارت انہی اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران (وبا کے دوران کے علاوہ) جموں و کشمیر میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، لیکن موجودہ سال کے اعداد و شمار پچھلے سال کے مقابلے میں کمی ظاہر کرتے ہیں۔
محکمہ سیاحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۴ میں۳۵ء۲ کروڑ ملکی سیاح اور۶۵ہزار۴۵۲ غیر ملکی سیاح جموں و کشمیر آئے۔جبکہ ۲۰۲۵کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد ۹ء۹۵ لاکھ ملکی سیاح اور ۱۹ہزار۵۷۰ غیر ملکی سیاح رہی۔
شیخاوت نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں کمی کے نتیجے میں ہونے والے کاروباری نقصان یا معاشی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی باضابطہ مطالعہ یا سروے نہیں کیا گیا۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ حکومت سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے اور خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے تو وزیر نے متعدد اسکیموں اور اقدامات کا ذکر کیا جو ملک بھر میں، بشمول جموں و کشمیر، نافذ کیے جا رہے ہیں۔
شیخاوت نے بتایا کہ وزارت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو’سوادیش درشن‘، ’پرشاد‘(پروجکیٹ ریویوی نیشن اینڈ اسپرچوئل ہیریٹیج اگمینٹیشن ڈرائیو) اور’سنٹرل ایجنسیز کی امداد‘ جیسی اسکیموں کے تحت سیاحتی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔
مرکزی وزیر سیاحت نے مزید کہا کہ’دیکھو اپنا دیش‘،’چلو انڈیا‘ جیسے پروموشنل کیمپس، اور’انٹرنیشنل ٹورازم مارٹ‘ اور ’بھارت پَرو‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سیاحت کو فروغ دیا جاتا ہے۔
شیخاوت نے کہا کہ وزارت نے ’انکریڈیبل انڈیا کونٹینٹ ہب‘کا آغاز بھی کیا ہے اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بشمول سوشل میڈیا اور سرکاری ویب سائٹ، کے ذریعے سیاحتی مقامات کی تشہیر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مختلف موضوعاتی سیاحت جیسے کہ ویلنیس ٹورازم، دیہی سیاحت، کھانوں سے جڑی سیاحت اور ماحولیاتی سیاحت کو بھی فروغ دے رہی ہے، اور’انکریڈیبل انڈیا ٹورازم فسیلیٹیٹر‘ اور ’پریَتن متر‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے ہنر کی ترقی پر بھی کام ہو رہا ہے۔
وزیر نے ایوان میں سال وار اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن کے مطابق۲۰۲۰ میں ۲۵لاکھ۱۹ہزار۵۲۴ ملکی سیاحوں نے جموںکشمیر کا دورہ کیا ۔۲۰۲۱ میں یہ تعدادایک کروڑ۱۳لاکھ۱۴ہزار۹۲۰رہی‘۲۰۲۲ میں ایک کروڑ۸۴لاکھ۹۹ہزار۳۳۲‘۲۰۲۳ میں ۲کروڑ ۶لاکھ۷۹ہزار۳۳۶ جبکہ ۲۰۲۴ میں یہ تعداد ۲کروڑ۳۵لاکھ۲۴ہزار۶۲۹ رہی۔شیخاوت نے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۰ ۵ہزار۳۱۷ غیر ملکی سیاحوں نے جموںکشمیر کا دورہ کیا ‘۲۰۲۱ میں ۱۶۵۰‘۲۰۲۲ میں ۱۹ہزار۹۸۵‘ ۵۵۲۰۲۳ ہزار۳۳۷ ‘۲۰۲۴ میں یہ تعداد ۵۵ہزار۳۳۷ رہی اور۲۰۲۴ میں۶۵ہزار۴۵۲۔ان کاکہنا تھا کہ جنوری تا جون ۱۹ہزار۵۷۰ غیر ملکی سیاحوں جموںکشمیر آئے ۔
مرکزی وزیر سیاحت نے اختتام پر کہا کہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے وزارت سیاحت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے۔










