سرینگر//
چیف آف آرمی اسٹاف ‘جنرل اوپندر دویدی نے آج اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے لیے تیار فوج بننے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا اور مسلسل ارتقا ضروری ہے۔
لیہہ میں فائر اینڈ فیوری کور ہیڈکوارٹر اور سیاچن بریگیڈ کے دورے کے دوران آرمی چیف نے آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور دنیا کے سب سے مشکل حالات میں پیشہ ورانہ مہارت اور شاندار خدمات پر جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
آرمی چیف نے لیہہ میں قائم فائر اینڈ فیوری کور اور سیاچن بریگیڈ کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے بعد جوانوں سے خطاب کیا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
آرمی کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور مسلسل ارتقا پذیر ہونے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ فوج کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رکھا جا سکے۔
ایکس پر ایک بیان میں کہا گیا ہے’’چیف آف آرمی اسٹاف نے فائر اینڈ فیوری کور اور سیاچن بریگیڈ کا دورہ کیا تاکہ فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ چیف نے تمام رینکس کی پیشہ ورانہ مہارت اور دنیا کے سب سے مشکل حالات میں شاندار خدمات پر انہیں سراہا۔ فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے، جنرل دویدی نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور مسلسل ترقی کرتے رہنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ فوج کو مستقبل کے لیے تیار رکھا جا سکے‘‘۔
جنرل دویدی نے کل دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ، سیاچن گلیشیئر پر ایک فارورڈ پوسٹ کا دورہ کیا اور ۱۸ جموں و کشمیر رائفلز (۱۸ جے اے کے رِف)، کے بہادر جوانوں سے ملاقات کی، جو وہی بٹالین ہے جس میں وہ کمیشن حاصل کر چکے ہیں۔
جنرل دویدی کا یہ دورہ جذباتی طور پر نہایت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ وہی بٹالین ہے جس میں وہ کمیشن حاصل کر چکے ہیں اور جس کی قیادت کرنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل رہا۔










