سرینگر//
محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر کے بارہ اضلاع کیلئے اگلے ۲۴گھنٹوں کے دوران موسلا دھار بارش کی وجہ سے اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔
آئی ایم ڈی کے مطابق کٹھوعہ، سانبہ، اُدھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن، ریاسی، جموں، راجوری، پونچھ، بارہمولہ اور اننت ناگ اضلاع میں فلش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارش کے باعث ندی نالوں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے ، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ضروری احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
محکمہ نے تمام متعلقہ اضلاع کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حفاظتی پروٹوکول کے مطابق اقدامات کریں تاکہ عوامی جان مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید بارش ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہو رہے ہیں۔
ادھرمحکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جموں کشمیر میں۲۴جولائی تک موسمی صورتحال خراب رہنے کے ساتھ کہیں کہیں بھاری بارشوں کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔
محکمہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس دوران کچھ مقامات پر سیلابی ریلے آنے ، لینڈ سلائیڈنگ ہونے اور پتھر کھسک آنے کے بھر خطرات ہیں جبکہ دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے ۔
ترجمان نے بتایا کہ وادی میں۲۲؍اور۲۳ جولائی کو کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں اور اس دوران تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں جبکہ صوبہ جموں میں اس دوران کہیں کہیں بھاری بارشوں کا امکان ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ۲۴جولائی کو بھی موسم مجموعی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ رک رک ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کا امکان ہے جبکہ اس دوران جموں صوبے میں کہیں کہیں تیز بارشیں ہوسکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ۲۵سے۲۷جولائی تک موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم اس دوران بھی جہیں کہیں بوندا باندی ہوسکتی ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ بعد میں۲۸سے۳۰جولائی تک ایک بار پھر کئی مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ جموں وکشمیر میں کچھ مقامات پر۲۲سے۲۴جولائی تک تیز بارشیں ہوسکتی ہیں اور اس دوران تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس دوران کچھ مقامات پر سیلابی ریلے آنے ، لینڈ سلائیڈنگ ہونے اور پتھر کھسک آنے کے بھر خطرات ہیں جبکہ دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے ۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ۲۲سے۲۴جولائی تک کاشتکاری سے متعلق سرگرمیوں کو معطل رکھیں۔
دریں اثنا گذشتہ ۲۴گھنٹوں کے دوران کٹرا میں سب سے زیادہ۱ء۱۰۲ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ راجوری میں۱۰۰ملی میٹر، پونچھ میں۶۵ملی میٹر، جموں میں۹ء۶۲ملی میٹر، اودھم پور میں۵۴ملی میٹر اور سانبہ میں۵۱ ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔
سرینگر میں گذشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران۲ء۰ ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ قاضی گنڈ میں۸ء۰ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔
وادی کے سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں بالترتیب۲ء۴ملی میٹر اور۳ء۰ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے ۔
ادھر محکمہ موسمیات کی طرف سے اگلے۷۲گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کی پیش گوئی کے بیچ جموں صوبے میں ضلعی حکام نے حفاظتی ایڈوائزری جاری کی ہے اور راجوری اور ریاسی اضلاع میں اسکولوں کو منگل کے روز احتیاطی طور پر بند رکھا گیا ہے اور رہائشیوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
راجوری میں مسلسل موسلا دھار بارش سے دھرہالی اور سکوتہ میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے جس سے کئی نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔
ضلع مجسٹریٹ راجوری نے’ایکس‘پر ایک پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا ’’موسم کی خراب صورتحال کے پیش نظر راجوری ضلع کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکول آج بند رہیں گے ‘‘۔
ضلع ریاسی میں بھی خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاط کے طور پر۲۲جولائی کو تمام اسکولوں کو ایک دن کے لیے بند رکھنے کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔
دریں اثنا ضلع مجسٹریٹ سانبہ نے ایک عوامی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان سڑکوں پر سفر کرنے سے گریز کریں جن پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات رہتے ہیں۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بہتے ہوئے ندی نالوں سے دور رہیں نیز حکام نے غیر محفوظ عمارتوں میں اور ان طلباء کے لیے جنہیں اسکول پہنچنے کے لیے ندیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے ، کیلئے کلاسز معطل رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔
رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک ضروری نہ ہو گھر کے اندر ہی رہیں اور ایمرجنسی کی اطلاع ضلع کنٹرول روم کودیں۔
حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ جاری بارشوں کے دوران حادثات سے بچنے کیلئے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔










