جموں//
جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا ہے کہ تمام زبانیں یکساں احترام کی مستحق ہیں اور امتحانات میں امیدواروں کو اپنی پسند کی زبان میں پرچہ حل کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے ۔
قرہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے نیشنل کانفرنس (این سی) کے ساتھ جو اتحاد قائم کیا، اس کا بنیادی مقصد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار سے دور رکھنا تھا اور وہ اس سیاسی حکمت عملی میں کامیاب رہے ۔
ان باتوں کا اظہار کانگریسی لیڈر نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
نائب تحصیلدار اسامیوں کو پر کرنے کی خاطر اردو زبان کو لازمی قرار دینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کانگریس صدر نے کہاکہ زبانیں تہذیبوں کی نمائندہ ہوتی ہیں، نہ کہ کسی ایک مذہب یا قوم کی۔
قرہ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام امیدواروں کو برابری کی بنیاد پر حق دے کہ وہ جس زبان میں چاہیں، امتحان دیں، چاہے وہ اردو ہو، ہندی ہو، انگریزی ہو یا کوئی اور علاقائی زبان۔
کانگریسی لیڈر مزید کہا کہ بی جے پی کی یہ حکمت عملی دراصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک ہتھکنڈا ہے ، جس کا مقصد اقلیتوں کے جذبات کو مشتعل کرنا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے ۔
قرہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کو پہچانیں اور متحد ہو کر تمام زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کا احترام کریں۔
نیشنل کانفرنس میں اندرونی اختلافات کے بارے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں پی سی سی چیف نے کہا کہ پارٹیوں کے اندرونی معاملات ان کے اپنے معاملات ہوتے ہیں اور ان پر کسی بیرونی فریق کو تبصرہ نہیں کرنا چاہیے ۔
قرہ نے زور دے کر کہا کہ سیاست میں نظریاتی اختلافات کے باوجود جب جمہوریت اور آئین کو خطرہ لاحق ہو تو جماعتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر عوامی مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر آنا پڑتا ہے ۔










